تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 184 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 184

۱۸۴ گزرا تھا۔کیونکہ وہ صاف لفظوں میں اس کتاب کے صفحہ ے پر لکھ چکے تھے کہ مکالمات الہیہ کے زمانہ پر تمہیں برس گزر چکے ہیں۔پس اس فقرہ کا صرف یہ مطلب ہے کہ آپ کی وحی پر بہر حال تئیس سال گزر چکے ہیں۔جو آنحضرت ﷺ کی وحی کی عمر ہے۔یعنی آپ کی وحی پر تئیس سال سے کم زمانہ اس وقت تک نہیں گزرا اس لئے آپ اپنے مخالفین پر آیت لو تقول کے معیار کی رو سے حجت قائم کرنے کا حق رکھتے ہیں۔پس اربعین کے دونوں اقوال میں در حقیقت کوئی تضاد نہیں۔اربعین نمبر ۳ صفحہ ۳۲ طبع اوّل سے برق صاحب نے ایک اور عبارت درج کی ہے۔66 " تیری عمر اسی برس کی ہوگی۔۔۔۔اور یہ الہام قریباً ۳۵ برس سے ہو چکا (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۹ طبع اول) 66 اربعین 1900 ء کی تصنیف ہے اس لحاظ سے اس الہام کا نزول ۱۸۶۵ء قرار پاتا ہے اور اس سے اگر یہ متعین ہو جاتا ہے کہ یہی پہلا الہام ہے جو آپ پر ہوا تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے۔کہ " میں تجھے برکت دوں گا۔“ والا الہام اس سے بعد کا ہے۔کیونکہ وہ ۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء کا الہام قرار دیا گیا ہے اور چونکہ یہ دونوں الہام الگ الگ ہیں اور الگ الگ اوقات میں نازل ہوئے پس اس عبارت کا کسی عبارت سے کوئی تضاد نہیں۔نمبرے پر برق صاحب نے تحفہ گولڑویہ 190 ء کی یہ عبارتیں درج کی ہیں۔” میرے دعوئی کے وقت رمضان کے مہینے میں اسی صدی یعنی چودھویں صدی لا۱۳ ھ میں خسوف کسوف ہؤا۔" (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۴ طبع اول) اس عبارت کو درج کر کے نہایت سادہ لوحی سے برق صاحب نے لاھ ہجری مطابق ۱۸۹۴ء کو آپ کی بعثت کا سن قرار دیا ہے۔حالانکہ حضرت اقدس اس