تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 175 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 175

۱۷۵ اختیار کیا تھا ورنہ در اصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔“ (ازالہ اوہام صفحه ۳۰۹ ،۳۱۰ حاشیہ طبع اول) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ عمل نا پسند ہے ویسے ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی نا پسند تھا۔لیکن انہوں نے مجبورا یہودیوں کے پست خیالات کی وجہ سے باؤن و حکم الہی اس عمل کو اختیار کیا تھا۔پس اس میں کون سی بات قابل اعتراض ہے حضرت اقدس نے بائیبل کی بنا پر یہ دکھایا ہے کہ الیسع نبی اس عمل میں حضرت مسیح علیہ السلام سے بڑھ کر تھا کہ اس کی ہڈیوں سے ایک مردہ کی لاش چھو جانے سے مردہ زندہ ہو گیا۔واضح ہو کہ حضرت اقدس کا یہ عقیدہ نہیں کہ کبھی کوئی حقیقی مُردہ زندہ ہوا۔یہ بات عیسائیوں کے مسلمات کی بنا پر لکھی گئی ہے وہ کہتے تھے کہ حضرت مسیح نے مُردے زندہ کئے لہذاوہ خدا تھے۔آپ نے بتایا ان سے بڑھ کر الیسع کی ہڈیوں نے ایک مُردہ زندہ کر دیا۔چونکہ حضرت اقدس کے نزدیک اس عمل کا روحانیت سے کوئی تعلق نہ تھا اس لئے آپ نے اسے اختیار نہ کیا۔بلکہ آنحضرت ﷺ کی روحانی راہوں کی پیروی اختیار کی۔برق صاحب کا بریکٹ میں اپنی طرف سے اسے شعبدہ بازی لکھنا درست نہیں۔حضرت اقدس تو اس عمل کو حضرت عیسی علیہ السلام کا عقلی معجزہ قرار دیتے ہیں چنانچہ آپ ازالہ اوہام کے صفحہ ۳۰۲،۳۰۱ حاشیہ طبع اول پر تحریر فرماتے ہیں :- ”سو واضح ہو کہ انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱)۔ایک وہ جو محض سماوی امور ہوتے ہیں جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہو تا جیسے شق القمر جو ہمارے سید و مولی نہیں مﷺ کا معجزہ تھا اور خدا تعالی کی غیر محدود قدرت نے صلى الله ایک راستباز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کیلئے اس کو دکھایا تھا۔(۲)۔دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو الہام