تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 174 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 174

۱۷۴ اقتباس میں نقطوں کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے بعض حصے حذف کر کے عبارت کو حسب منشاء ڈھال لیا ہے۔حاشاو کلا بد دیانتی کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ بعض زائد الفاظ کو بغرض اختصار حذف کر دیا گیا ہے۔“ ☆ ہم اس جگہ حضرت اقدس کی پوری عبارت نقل کر دیتے ہیں۔جس سے پڑھنے والوں پر خود بخود جناب برق صاحب کے ارادہ اور دیانت کی قلعی کھل جائے گی۔جناب برق صاحب نے ایک ہی مضمون سے دو عبارتیں درمیانی اور پہلا اور آخری حصہ چھوڑ کر نقل کی ہیں۔ہم نے چھوڑے ہوئے حصہ پر خط کھینچ دیا ہے تا پڑھنے والوں کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الهی الیسع نبی کی طرح اس عمل الجراب میں کمال رکھتے تھے۔گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے کیونکہ الیسع کی لاش نے بھی معجزہ دکھلایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا۔مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہر گز زندہ نہ ہو سکیں۔بہر حال مسیح کی یہ تریبی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قومی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے جس پر ہمارے نبی اللہ نے قدم مارا ہے اور حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوز تھے باذن و حکم الہی عمل الحرب کے آگے برق صاحب نے بریکٹ میں اپنی طرف سے ”دو مسمریزم شعبد بازی“ کے لفظ لکھ دیئے تھے جو کاٹ دیئے گئے ہیں۔