تحقیقِ عارفانہ — Page 169
”ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی ما نہیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں سو ہماری کتاب میں کوئی ایسا لفظ موجود نہیں ہے جو ان کی شان بزرگ کے بر خلاف ہو اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکہ کھانے والا اور جھوٹا ہے۔“ ایام الصلح نائیل پیچ صفحه ۲ طبع اول و تبلیغ رسالت مجموعہ اشتہارات جلد ۷ صفحہ ۷۷ ) پھر تحریر فرماتے ہیں۔موسیٰ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں سو میں اس کی عزت کرتا ہوں جس کا ہمنام ہوں اور مفسد اور مفتری ہے وہ 66 شخص جو کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔“ پھر تحریر فرماتے ہیں۔(کشتی نوح صفحه ۶ اطبع اول) جس حالت میں مجھے دعوی ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کو بُرا کہتا تو اپنی مشابہت ان سے کیوں بتلاتا کیونکہ اس سے تو خود میرا بُرا ہونا لازم آتا ہے۔“ (اشتہار ۷ ۲/ دسمبر ۱۸۹۸ء حاشیه و تبلیغ رسالت جلد ۷ صفحه ۷۰ حاشیہ) پس یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کے فرضی یسوع کے متعلق التزامی رنگ میں یہودیوں کے اعتراضات عیسائیوں کے سامنے پیش کئے ہیں۔برق صاحب کا اعتراض اس پر برق صاحب کا اعتراض یہ ہے کہ " قرآن کا عیسی انجیل کے یسوع سے