تحقیقِ عارفانہ — Page 170
۱۷۰ کوئی الگ ہستی نہ تھا۔“ الجواب اصل حقیقت تو یہی ہے کہ قرآن کا عیسی اور انجیل کا یسوع ایک ہی انسان تھا۔مگر الزام خصم کے لئے انجیلی یسوع کو قرآن مجید کے حضرت عیسی سے الگ فرض کر نا از بس ضروری تھا۔کیونکہ عیسائیوں کا متصور یسوع بقول ان کے خدائی کا دعویٰ دار تھا۔اور قرآن مجید کا پیش کردہ مسیح علیہ السلام خدا کا بندہ اور نبی اور رسول تھا۔الزامی استدلال کے لئے خود جناب برق صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام والا طریق اختیار کیا ہے۔مگر خود اپنے طریق الزام کو نظر انداز کر کے اب محض اعتراض برائے اعتراض پر کمر بستہ ہیں۔دیکھئے خود محترم برق صاحب نے بھی ”دو اسلام “ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔حالانکہ اسلام تو ایک ہی ہے مگر انہوں نے روائتی اسلام اور اپنے مزعوم و متصور اسلام کے لحاظ سے دو اسلام قرار دیدیئے ہیں اور پھر روائتی اسلام کی خوب خدمت کی ہے۔چنانچہ وہ اپنی کتاب بھائی بھائی کے صفحہ ۱۳، ۱۴ پر روائتی اسلام “ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں۔روائتی اسلام ایک بڑا ہی دلچسپ اسلام ہے اس کی ایک خوبی یہ ہے کہ آتش اختلاف کبھی بجھنے نہیں دیتا۔دوسری یہ کہ انسان کو انسان کا ئیری بنائے رکھتا ہے اور تیسری یہ کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یعنی عمل ( محنت ) جد و جہد و نگاہو سے بے نیاز کر دیتا ہے۔اہل سنت کے ہاں ہزاروں ایسی احادیث موجود ہیں جس کی رو سے خالی کلمہ پڑھنا یا کسی دعا کا ورد کرنا فلاح دنیوی واخروی کے لئے کافی ہے عمل کی ضرورت ہی نہیں ( تفصیل میری کتاب دو اسلام میں ملاحظہ فرمائیے ) اور شیعوں کے