تحقیقِ عارفانہ — Page 28
۲۸ عدالتیں تیار ہوتی ہیں ، نہ مجسٹریٹ تیار ہوتے ہیں بلکہ ان مہروں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ جس فرمان پر وہ لگیں یا جس مضمون پر لگیں۔وہ مجسٹریٹ یا عدالت کا مصدقہ ہو کر مستند ہو جاتا ہے۔مگر آنحضرت ملے تو انگمو نتھی اور نگینہ کی قسم کی کوئی شہر نہیں۔بلکہ آپ ایک ایسے نبی اور رسول ہیں جنہیں خاتم قرار دے کر خاتم کو النبین کی طرف ، مضاف کر دیا گیا ہے۔خَاتَمُ زَيْدٍ يَا خَاتَمُ الْحَكَمِ يَا خَاتَمُ الْعَدَالَةِ میں خاتم کی اضافت حذف لام یعنی عَالَم يزيد عالم للحاكم يا عالَم لِلعَدَ الةِ مراد ہے۔ہیں زید کی مہر - مجسٹریٹ کی مہر اور عدالت کی مہر میں اضافت تملیکی پائی جاتی ہے یعنی زید کی شہر سے یہ مراد ہے کہ زید اس مہر کا مالک اور اس مہم پر متصرف ہے۔یہی مفہوم مجسٹریٹ یا عدالت کی مہر کا ہوتا ہے۔یعنی مجسٹریٹ یا عدالت اس پر متصرف ہے۔مگر خاتم النبین میں اضافت تملیکی نہیں پائی جاتی۔یعنی اس سے یہ مراد نہیں لی جاسکتی کہ انبیاء اس شہر کے مالک یا اس پر قابض اور متصرف ہیں پس خاتم النبیین کا خاتم زیدیا خاتم الحاکم یا خاتم العدالت پر قیاس درست نہ ہوا۔کیونکہ یہ قیاس غیر تملیکی اضافت کا تملیکی اضافت پر ہونے کی وجہ سے قیاس مع الفارق ہے۔خاتم النبیین کا ان مثالوں پر قیاس کرنا جو برقی صاحب نے پیش کی ہیں ان کی ایک علمی لغزش کا ثبوت ہے۔ختم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت سے انبیاء کے لئے ایک مؤثر وجود ہیں۔اور انبیاء آپ سے فیض یاب بھی ہیں۔اور آپ ان کے مصدق بھی ہیں۔چنانچہ مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند خاتم النبیین کی تفسیر میں لکھتے ہیں : - "حاصل مطلب آیت کریمہ (ماکان محمد ابا احد من رجا لكم و لكن رسول الله و خاتم النبیین کا اس صورت میں یہ ہو گا کہ ابُوتِ معروفہ تو رسول اللہ علے کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں پر ابُوتِ معنوی اتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے۔انبیاء کی نسبت تو فقط خاتم النعین شاہد ہے