تحقیقِ عارفانہ — Page 29
۲۹ اوصاف معروض اور موصوف بالعرض (دو نو نا قل) موصوف بالذات کی فرع ہوتے ہیں اور موصوف بالذات اوصاف عرضیہ کا اصل ہو تا ہے اور وہ اس کی نسل۔( تحذیر الناس صفحہ ۱۰) گویا علامہ موصوف سیاق آیت کے لحاظ سے اس کی تفسیر یہ کر رہے ہیں کہ جمله ولكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبين آنحضرت ﷺ کی ابُوتِ معنوی کے اثبات کے لئے ہے۔کیونکہ یہ جملہ لکن حرف استدراک کے ساتھ جملہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ ابا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ کے بعد واقع ہے پہلے جملہ میں آنحضرت ﷺ کی جسمانی ابوت کی ہر مرد کے لئے نفی کی گئی ہے اور اس کے بعد لکن استدراک کے لئے لا کر بعد کے جملہ سے آپ کی ابوت معنوی کا اثبات مقصود ہے رسول اللہ کے الفاظ سے آپ کو اتیوں کا روحانی اور معنوی باپ ثابت کرنا مقصود ہے اور آگے خاتم النعیین کہہ کر آپ کو انبیاء کا روحانی اور معنوی باپ ثابت کرنا مقصود ہے۔پس یہ ہے مقصود اس آیت میں خاتم کو النبین کی طرف مضاف کرنے کا۔فتد ہو۔پھر مولانا موصوف یہ بھی لکھتے ہیں :- ، " جیسے خاتم پیج تاء کا اثر اور فعل مختوم علیہ پر ہوتا ہے۔ایسے ہی موصوف بفتح بالذات کا اثر موصوف بالعرض میں ہو گا۔“ ( تحذیر الناس صفحہ ۱۰) خائم کا اثر اور فعل مختوم علیہ پر کیسے ہوتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ جو نقوش خاتم میں ہوتے ہیں وہی نقوش مختوم علیہ میں پیدا ہو جاتے ہیں۔اس طرح خاتم العین میں نے نبوت کے نقوش بالذات رکھتے ہیں اور مختوم علیہ نبی خاتم کے اثر و فیض سے وصف نبوت سے موصوف ہوتا ہے مقصود مولانا ئے موصوف کا یہ ہے کہ آنحضرت کا خاتم النبین ہو نا دوسرے نبیوں میں اپنے نقوش نبوت پیدا کرنے میں مؤثر ہے۔لہذا آنحضرت ﷺ نبی بالذات ہیں اور دوسرے تمام انبیاء چونکہ آپ کی خانم