تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 10 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 10

بہت دلائل ہونے چاہیں۔مگر آپ باوجود اس بحث کو فرسودہ کہنے کے ابھی تک خود کوئی فیصلہ نہیں کر سکے کہ حضرت عیسی زندہ ہیں یا وفات یافتہ۔کیا اسی برتے پر آپ نے احمدیوں کو سمجھانے کے لئے حرف محرمانہ “ تالیف فرمائی ہے۔آپ کہتے ہیں اس کا حاصل کچھ بھی نہیں۔یہ الفاظ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ حضرت عیسی کی حیات جسمانی اور صعودالی السماء کے ثبوت میں آپ کے پاس کوئی دلائل موجود نہیں ورنہ تحریک احمدیت کی تردید کے لئے تو یہ مسئلہ بنیادی حیثیت کا حامل ہے کیونکہ اگر حیاتِ مسیح ثابت ہو جائے تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ باطل ہو جاتا ہے۔آپ کے نزدیک کسی مثیل مسیح کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ کے نزدیک کام چل ہی رہا ہے۔خبر نہیں کام چلنے سے مراد آپ کی کیا ہے۔کام تو عیسائیوں اور یہودیوں کا بھی چل رہا ہے۔اور مسلمان حیات مسیح کے قائل ہونے کی وجہ سے عیسائیوں کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں اور اسی وجہ سے عیسائیوں میں تبلیغ کے لئے ان کا کوئی مشن موجود نہیں۔پس عیسائیوں کے خلاف اگر کوئی مؤثر تحریک مسلمانوں کی چل رہی تو وہ احمد یہ تحریک ہی ہے جس کے مشن تقریباً معروف دُنیا میں قائم ہو چکے ہیں۔پس کام تو بے شک چل رہا ہے اور تبلیغ اسلام بھی زور شور سے ہو رہی ہے مگر یہ کام ٹیل مسیح کے مدعی کی جماعت کے حصہ میں ہی آیا ہے۔مسیح کے ٹیل کی آمد کا دروازہ بند کرنے والے آپ کون ہیں؟ آپ کو تو صرف یہی خطرہ ہے کہ دروازہ کھلنے سے ہر شخص شیل مسیح کا دعویٰ کر سکتا ہے۔حالانکہ دعوی کر سکنا اور بات ہے اور دعوی کر کے کامیابی حاصل کرنا صرف تائید الہی سے ہی میسر آسکتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی تائید کسی جھوٹے مدعی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ”قَد خَابَ مَنِ افْتَرى " ( طه : ۶۲) کہ جس نے افترا کیا وہ خائب و خاسر ہوا۔پس اگر ہزار لوگ بھی مثیل مسیح یا نبی ہونے کا دعوی کریں تو اس بات سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ کامیاب صرف