تحقیقِ عارفانہ — Page 11
11 صادق ہی ہو سکتا ہے۔اپنی کتاب "دو اسلام " میں آپ قرآن مجید کا اسلام اور قرار دیتے ہیں اور حدیثوں کا اسلام اور کیا ہم اس سے یہ نتیجہ اخذ نہ کریں کہ آپ نزول مسیح کی احادیث کے در حقیقت منکر ہیں۔اس لئے آپ نے ہمارے جواب میں ٹال مٹول سے کام لے کر ایک گول مول جواب دے دیا ہے تا آپ کے اصل عقیدہ پر پردہ پڑا ر ہے۔وفات مسیح علیہ السلام ہماری تحقیق میں حضرت عیسی علیہ السلام از روئے قرآن مجید وفات پاچکے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورہ مائدہ کے آخری رکوع میں فرمایا ہے۔کہ حضرت عیسی سے (قیامت کے دن ) یہ سوال ہو گا کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ تعالٰی کے سواد و معبود مانو۔تو وہ جواب میں کہیں گے کہ اے خدا تو ہر عیب سے پاک ہے جس بات کا مجھے حق نہیں میں انہیں کیسے کہہ سکتا تھا اگر میں نے انہیں ایسا کہا ہے تو تو جانتا ہے جو کچھ میرے نفس میں ہے اور میں جو کچھ تیرے نفس میں ہے نہیں جانتا۔تو غیوں کا جاننے والا ہے میں نے تو انہیں وہی کچھ کہا تھا جس کا تونے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔وكنت عَلَيْهِم شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَيتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ (المائده : ۱۱۸) میں ان لوگوں کا اس وقت تک ہی نگران تھا جب تک ان میں موجود رہا پس جب (اے خدا) تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر اُن کا تو ہی مگر ان تھا۔یعنی یہ لوگ جوے ہیں تو میری وفات کے بعد بگڑے ہیں اور میری وفات کے بعد اے خدا ان کا تُو ہی نگران تھا۔یعنی مجھے تو دوبارہ ان کی نگرانی کا موقعہ ہی نہیں ملا کہ مجھ پر کوئی ذمہ داری ان کے غلط