تحقیقِ عارفانہ — Page 171
121 ہاں بھی ماتم حسین اور حب علی کو نجات کے لئے کافی سمجھا جاتا ہے اور اس پر بے شمار روایات موجود ہیں۔“ جس طرح جناب برق صاحب نے اسلام کے متعلق دو تصوروں کے لحاظ سے دو اسلام قرار دیئے ہیں۔اور ان میں سے ایک اسلام آپ کے نزدیک اچھا نہیں۔اس لئے اس پر آپ معترض ہیں کہ وہ بقول آپ کے جد و جہد سے بے نیاز کرتا ہے۔اور دوسرا اسلام آپ کا مرغوب اور پسندیدہ ہے۔حالانکہ اسلام حقیقت میں ایک ہی دین ہے دو نہیں لیکن دو الگ الگ تصوروں کے لحاظ سے آپ نے دو اسلام قرار دئیے ہیں۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام اور یسوع تو در حقیقت ایک ہی انسان ہے مگر عیسائیوں کا متصور یسوع اور قرآن مجید کا عیسائی تصور اور قرآنی تصور کے لحاظ سے حضرت اقدس نے الگ الگ قرار دے کر عیسائیوں کے فرضی یسوع پر الزامات قائم کئے ہیں۔جس طرح برق صاحب نے اہل سنت کے دینِ اسلام کو روائتی اسلام قرار دے کر اسے ہدف ملامت بنایا ہے۔حالانکہ برق صاحب کا موقف نہایت ہی کمزور ہے۔کیونکہ آپ صرف احادیث کا انکار کرنے کی خاطر اہل سنت کے روائتی اسلام کو نشانہ اعتراض بنا رہے ہیں۔اہل سنت کا اسلام ہر گز یہ نہیں کہتا کہ عمل اور جدو جہد سے کام نہ کیا جائے یا یہ کہ عمل کی ضرورت نہیں اور نجات کے لئے صرف کلمہ پڑھ لینا کافی ہے۔اگر کوئی شخص ایسا سمجھتا ہے تو وہ مور د طعن ہے نہ کہ اہل السنت کا اسلام اور ان کی احادیث صحیحہ۔تعجب ہے کہ اسلام کے دو تصویروں کے لحاظ سے آپ کا یہ لکھنا تو آپ کے نزدیک درست ہے کہ اسلام دو ہیں۔لیکن عیسائیوں کے فرضی یسوع اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دو مسیح ہونا آپ کی سمجھ میں نہیں آرہا۔