تحقیقِ عارفانہ — Page 692
۶۹۲ اور میں نے یہ انتظام کر لیا ہے کہ ہماری جماعت میں سے کوئی شخص تحر یریا تقریر کے ذریعہ سے کوئی ایسا مضمون شائع نہیں کرے گا۔جس میں آپ صاحبوں میں سے کسی صاحب کی تحقیر اور تو ہین کا ارادہ کیا گیا ہو۔اور اس انتظام پر اس وقت سے پورا عملدرآمد ہو گا جب کہ آپ صاحبوں کی طرف سے اسی مضمون کا ایک اشتہار نکلے گا کہ آئندہ آپ پورے عہد کے ساتھ ذمہ وار ہو جائیں گے۔کہ آپ صاحبان یعنی ایسے لوگ جو آپ کے زیر اثر ہیں یا زیر اثر سمجھے جاسکتے ہیں ہر ایک قسم کی بد زبانی اور ہجو اور ب و شتم سے مجتنب رہیں گے۔اور اس نئے معاہدہ سے آئندہ اس بات کا تجربہ ہو جائے گا کہ کس فریق کی طرف سے زیادتی ہے۔اس سے آپ صاحبوں کو ممانعت نہیں کہ تہذیب سے رڈ لکھیں۔اور نہ ہم اس طریق سے دست کش ہو سکتے ہیں۔لیکن دونوں فریقوں پر واجب ہو گا کہ ہر ایک قسم کی بد زبانی اور بد گوئی سے منہ بند کر لیں۔مجھے بہت خوشی ہو گی جب آپ کی طرف سے یہ اشتہار پہنچے گا۔اور اسی تاریخ سے ان تمام امور پر عملدرآمد شروع ہو گا۔بالفعل اس اندرونی تفرقہ کو مٹانے کے لئے اس سے بہتر کوئی تدبیر نہیں۔علماء کی طرف سے اس مصالحانہ پیشکش کا جواب تبلیغ رسالت جلد اصفحه (۸) اس مصالحانہ پیشکش کا جواب مولوی عبدالواحد صاحب خانپوری نے ذیل کے لیے اور گندے عنوان " اظہار مخادعہ مسلمہ قادیانی جواب اشتہار یولس ثانی الملقب بكشف الغطاء عن ابصار اهل العمی“ کے تحت 1901 ء میں یوں دیا :- " مر زا صاحب نے ان (احمدیوں) کو کہا کہ صبر کرو۔میں لوگوں سے صلح کرتا ہوں۔اگر صلح ہو گئی تو مسجد بنا نیکی (امر تسر میں۔ناقل ) کچھ حاجت نہیں اور نیز بہت قسم کی ذلتیں اٹھائیں۔معاملہ وبر تاؤ مسلمانوں سے ہند ہو گیا۔عورتیں منکوحہ مخطوبہ