تحقیقِ عارفانہ — Page 693
۶۹۳ یوجہ مرزائیت کے چھینی گئیں۔مردے ان کے تجہیز و تکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے وغیرہ وغیرہ تو کذاب قادیانی نے یہ اشتہار مصالحت کا دیا۔“ اب برق صاحب سوچ لیں کہ ایسے لوگوں پر پھول بر سانے چاہئیں یا یہ کسی اور بات کے مستحق ہیں۔لکھا ہے :- جناب برق صاحب کو یہ بھی اعتراض ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے خود 66 لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں مومن تعان نہیں ہو تا۔“ (ازاله صفحه ۶۶۰) لیکن اس کے باوجود حضرت مرزا صاحب نے عبدالحق غزنوی پر ہزار ہزار لعنت ڈالی ہے۔حضرت اقدس کا یہ قول اپنی جگہ درست ہے کہ لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں۔اور مومن لعان نہیں ہوتا۔مراد اس سے یہ ہے کہ مومن لعنت میں ابتداء نہیں کرتا۔ورنہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ظالموں کے خلاف خود رسول پاک ﷺ نے الله ایک عرصہ تک فجر کی نماز میں نام لے لے کر لعنت ڈالی ہے۔چنانچہ صحیح بخاری جلد ۳ صفحہ ۸۳ میں حدیث ہے :- كَانَ يَقُولُ فِي بَعْض صَلَاتِهِ فِي صَلوةِ الْفَجْرِ اللَّهُمَّ العَن فُلا ناوَفُلَانًا 66 لِاِحْيَاءٍ مِنَ العَرب “ یعنی رسول اللہ ﷺ اپنی فجر کی بعض نمازوں میں کہتے تھے۔اے اللہ ! فلاں پر لعنت بھیج قلال پر لعنت بھیج مراد آپ کی عربوں کے زندہ لوگ تھے۔کسی کے ظلم و ستم کرنے پر اس پر لعنت کرنا از روئے قرآن و حدیث منع نہیں۔جب تک خدا نہ روک دے۔بلکہ خدا تعالی نے تو جھوٹوں پر خود بھی لعنت ڈالی