تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 691 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 691

۶۹۱ یعنی میری امت میں ایک عظیم الشان گھبراہٹ پیدا ہوگی۔یعنی ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے جن کو دیکھ کر لوگ گھبرا اٹھیں گے۔تب وہ لوگ اپنے علماء ا کی طرف رجوع کریں گے تو ناگاہ انہیں ہند راور سور پائیں گے۔اس حدیث میں ان بعض علماء کی حالت بیان کی گئی ہے جو آخری زمانہ میں پیدا ہونے والے تھے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اُن میں سے صلى الله بعض آنحضرت نے کی پیشگوئی کے الفاظ کے مستحق تھے۔ذرا انصاف کی نظر سے دیکھئے کہ ان لوگوں کی گالیوں اور سخت کلامی کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آخر ۵/ مارچ 190 ء کو "الصلح خیر " کے نام سے ایک اشتہار شائع فرمایا۔اور اس میں لکھا :- ١٩٠١ " آج پھر میرے دل میں خیال آیا کہ میں ایک مرتبہ پھر آپ صاحبوں کی خدمت میں مصالحت کے لئے درخواست کروں۔مصالحت سے میری مراد یہ نہیں کہ میں آپ صاحبوں کو اپنا ہم عقید و بنانے کے لئے مجبور کروں یا اپنے عقیدہ کی نسبت اس بصیرت کے مخالف کوئی کمی بیشی کروں جو خدا نے مجھے عطا فرمائی ہے بلکہ اس جگہ مصالحت سے صرف یہ مراد ہے کہ فریقین ایک پختہ عہد کریں کہ وہ اور تمام لوگ جوان کے زیر اثر ہیں ہر ایک قسم کی سخت زبانی سے باز رہیں۔سخت زبانی میں یہ بات داخل ہوگی کہ ہر ایک فریق دوسرے فریق کو ان الفاظ سے یاد کرے کہ وہ دجال ہے بے ایمان ہے یا فاسق ہے۔مگر یہ کہنا کہ اُس کے بیان میں غلطی ہے یا خاطی یا مخفی ہے سخت زبانی میں داخل نہ ہو گا اور کسی تحریر یا اشارہ کنایہ سے فریق مخالف کی عزت پر حملہ ہے نہ کرے۔اگر دونوں فریق میں سے کوئی صاحب اپنے فریق مخالف کی مجلس میں جائے تو جیسا کہ شرط تہذیب اور شائستگی ہے فریق ثانی سے مدارات سے پیش آئے۔“ اور پھر آگے لکھتے ہیں :