تحقیقِ عارفانہ — Page 667
۶۶۷ ان لشکروں) سے مراد شیطان کے لشکر اور امام الزمان کے لشکر ہیں۔مختلف افراد کے جمع ہو جانے کے لحاظ سے انہیں اور اُنہیں هذه الجنود وتلك الجنود قرار ديا گيا ہے جب ان هذه الجنود وتلك الجنود میں لڑائی ہوتی ہے۔تو یہ دونوں متحارب فریق من جاتے ہیں۔اس لئے ان کے دو فریق یا گروہ بن جانے کی وجہ سے ان کے لئے فعل بتحاربان (دونوں فریق لڑ رہے ہیں) کا استعمال ہی زیادہ فصیح ہے۔اگر صرف اتناہی فقرہ ہوتا وتلك الجنود يتحاربان اور اس سے پہلے و هذه الجنود کا ذکر نہ ہوتا تو پھر افراد کے لحاظ سے اس جگہ یتحاربون (وہ سب لڑرہے ہیں) استعمال ہو تا۔اور اس صورت میں تلك الجنود کو ہی دو فریق قرار دے کر ان کے لئے بتحاربان بھی جائز ہوتا۔مگر اب تو یہ صورت ہی موجود نہیں بلکہ پوری عبارت هذه الجنود اور تلك الجنود دونوں کو باہم دو متحارب فریق قرار دے رہی ہے لہذا اس صورت میں بتحاربان کا استعمال ہی انسب اور انصح ہے۔اعتراض نمبر 11 الَّتِي النفس التي سعى سعيها - پر اعتراض کیا گیا ہے "سعی غلط ہے اس لئے کہ نفس مؤنث ہے۔سعت چاہیئے۔“ (حرف محرمانہ صفحہ ۴۱۵) الجواب مسعی کا استعمال بھی صحیح ہے۔کیونکہ نفس کو شخص اور انسان مراد لے کر مذکر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔قرآن مجید میں ہے لا تعلم نفس ما أخفى لهم من قرة اعين اس جگہ پہلے لا تعلم فعل واحد مؤنث استعمال کر کے نفس کو مؤنث قرار دیا گیا ہے۔اور اس کے بعد اس کی طرف ضمیر لهم جمع مذکر کی نفس کو اشخاص پر محمول کر کے راجع کر دی گئی