تحقیقِ عارفانہ — Page 666
۶۶۶ نزدیک کافةٌ حال مقدم ہے اور للناس اس کا ذوالحال متاثر ہے۔گو دوسرے نحوی اس آیت میں کافة کو اَرْسَلْنَاكَ کی ضمیر کاف کا حال قرار دیتے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ معنوی لحاظ سے اس جگہ قرآن مجید میں كافة کو للناس کا حال قرار دینا ہی مناسب ہے کیونکہ مراد یہ ہے کہ آنحضرت یہ سب کے سب لوگوں کے لئے رسول ہیں۔خیر یہ بحث تو حال کے جار مجرور سے مقدم لانے یا نہ لانے سے متعلق ہے۔مگر جس جملے میں عامل فعل یا شبہ فعل ہو وہاں تو حال کا متقدم لانا علی الاتفاق جائز ہے۔پس حضرت اقدس کا زیر بحث فقرہ میں کافۃ کا لفظ اهل الملۃ کا مضاف نہیں بلکہ اس کا حال مقدم ہے اور آلزم فعل اس کا عامل ہے۔پس برق صاحب کا اسے خلاف قاعدہ مضاف قرار دینا غلطی ہے اور انکا اعتراض محض مغالطہ ہے۔اعتراض نمبر ۱۰ وَتِلْكَ الْجُنُودُ يَتَحَارَبَان يتحاربان غلط ہے تتحاربان چاہیے۔(حرف محرمانه صفحه ۴۱۵) الجواب یہ استعمال بالکل درست بلکہ زیادہ فصیح ہے۔برق صاحب نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ الجنود جمع مکسر ہے جو مؤنث ہوتی ہے۔اس کے لئے فعل يتحاربان مذکر استعمال کیا گیا ہے۔مگر انہوں نے اس جگہ پوری عبارت نہ پیش کر کے مغالطہ دہی سے کام لیا ہے۔پوری عبارت یوں ہے :- ولَمْ يَزَلُ هذه الجُنُودُ وَتِلْكَ الجنودُ يَتَحَارِبان یہ لشکر اور وہ لشکر دونوں لڑتے رہے۔) سیاق کے لحاظ سے اس جگہ هذه الجنود (ان لشکروں) اور تِلكَ الجنود