تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 668 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 668

۶۶۸ ہے۔یہی حال زیر بحث فقرہ کا ہے کہ پہلے اسے مؤنث قرار دے کر اس کی طرف فعل سعی کی ضمیر واحد غائب راجع کی گئی۔چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے۔ماعندنا الاثلثة انفس مثل النجوم تلعلعت في الحندس اس جگہ انفس کی تانیث کی وجہ سے باقاعدہ تمیز اعداد ثلث کا استعمال چاہیئے تھا۔لیکن شاعر نے انفس کو بتا ویل اشخاص مذکر قرار دیدیا ہے۔اور مذکر کے مناسب قاعدہ کے مطابق عدد ثلاثۃ کا استعمال کیا ہے۔پھر دوسرے مصرعہ میں یہی شاعر انفس کو مؤنث قرار دے کر اس کے لئے تلعلعت فعل واحد مؤنث کا استعمال کر رہا ہے۔گویا ایک ہی شعر میں انفس کو نذ کر بھی استعمال کیا گیا ہے اور مؤنث بھی۔اعتراض نمبر ۱۲ إلا قليل : الَّذِي هُوَ كَا لَمَعْدُوم - صفحہ ۱۵۹) اس پر یہ اعتراض کیا گیا ن ”یہاں موصوف نکرہ ہے اور صفت معرفہ جو صحیح نہیں۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۱۵) افسوس ہے کہ جناب برق صاحب نے اس جگہ اعتراض وضع کرنے کے لئے ادھوری عبارت پیش کر دی ہے تا منشاء متکلم کو چھپا کر اپنے اعتراض کو صحیح دکھا سکیں۔یہ فعل مجرمانہ ہے نہ کہ محرمانہ۔پوری عبارت یہ ہے۔كان الناس كلهم ماتوا ولم يبق فيهم رُوحُ الْمَعْرِفَةِ إِلَّا قَلِيلُ : الَّذِي ن