تحقیقِ عارفانہ — Page 665
ہو تو حال کا ذوالحال سے مقدم لانا جائز ہے۔چنانچہ شرح المفصل میں حال کی بحث میں لکھا ہے :- إِذَا كَانَ الْعَامِلُ فِيهَا فِعلاً جَازَ تَقَدِيمُ الحَال عَلَيْهِ۔“ یعنی جب عامل فعل ہو تو حال کا مقد م لانا جائز ہے۔66 آگے اس کی مثالیں دی ہیں۔جاءَ قَائِماً زيد اور قَائِمًا جَاءَ زَيْدُ (دیکھئے شرح المفصل للشيخ العلامه لان على بن يعيش الخوی متوفی ۱۳۳ ہجری جزو اول صفحه ۵۷ مطبوعه مصر) ان مثالوں سے ظاہر ہے کہ حال کا نہ صرف ذوالحال سے پہلے لانا جائز ہے بلکہ فعل سے بھی پہلے لانا جائز ہے۔اسی طرح الفیہ بن مالک اور اوضح المسالک میں بھی جو نحو کی مشہور کتابیں ہیں یہی قاعد وبیان کیا گیا ہے۔ملاحظہ ہو الفیہ اور اوضح المسالک میں بحث حال این مالک الفیہ میں تو جار مجرور کے ذوالحال ہونے کی صورت میں حال کا مقدم لانا جائز قرار دیتے ہیں۔گو نویوں کو اس سے انکار ہے ملاحظہ ہو الفیہ کا شعر وَسَبْقُ حال مَا بِحَرْفٍ جُوقَدُ ابوا وَلَا أَمْنَعُهُ فَقَدْ وَرَدَ یعنی حال کے مجرور سے مقدم لانے سے نحویوں نے انکار کیا ہے لیکن میں نا جائز نہیں کہتا کیونکہ (قرآن مجید میں وارد ہوا ہے۔اس جگہ بین السطور آیت وما ارسلناك إلا كافة للناس بطور نظیر پیش کی گئی ہے گویا كافة للناس کا حال مقدم قرار دیا ہے۔اوضح المسالک میں جو نحو کی مشہور اور مستند کتاب ہے حال کے باب میں لکھا ہے کہ آیت وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا كافة للناس من الفارسی۔ابن جنی اور قیسان کے