تحقیقِ عارفانہ — Page 664
۶۶۴ عمرها مؤنث کی ضمیر راجع کی ہے۔مؤنث کی طرف مذکر کی ضمیر راجع کرنے کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو۔ہے۔كَى يَطلُبُوا فوق الارض لم يجدوا مثل الذى غيبوا في بطنه رَجُلاً دیکھئے ارض مؤنث ہے مگر بطنہ کی واحد مذکر ضمیر اس کی طرف راجع کی گئی (حماسه مجتبائی صفحہ ۵۱۷) کیوں برق صاحب ! اب بھی تسلی ہوئی ہے یا نہیں۔کہ آپ کا یہ لغو اعتراض عربی علم ادب میں بالغ النظر ہونے کا ثبوت نہیں۔اعتراض نمبر ۹ الزم الله كافة أهل المِلَّةِ۔عربی میں کافة مضاف نہیں ہو سکتا۔اس لئے یہ فقرہ غلط ہے۔الجواب (حرف محرمانه صفحه ۴۱۵) اس عبارت میں کافة مضاف نہیں بلکہ حال مقدم ہے اور اھل الملة اس کا ذوالحال متاخر جو الزم کا اپنے حال مقدم کے ساتھ مل کر مفعول بہ ہے۔پس اس عبارت کو یوں پڑھا جائے گا۔اَلزَمَ اللهُ كَافَّةٌ اَهْلَ المِلَّةِ۔اس جگہ حال کو بر عایت جمع مقدم کیا گیا ہے۔چنانچہ اس عبارت کا اگلا فقرہ ہے۔اِن يَقْرَءُ وَالفُظَ الرَّحِيمِ قَبلَ قِراءَ ة الفَاتِحَةِ وقَبْلَ الْبَسْمَلَةِ اس جگہ یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ سورۃ فاتحہ سے اور بسم اللہ سے پہلے اَعُوذُ باللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِیمِ پڑھنا کیوں لازم کیا گیا ہے۔حال کا اصل محل تو فقرہ کے آخر میں ہوتا ہے۔مگر جب فقرہ میں عامل فعل