تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 585 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 585

۵۸۵ استعمال جبکہ بارش کا متعدد مرتبہ ہو نا مراد ہو۔درست ہے ہر گز محل اعتراض نہیں۔اس زمانہ میں مفرد کی جائے جمع کا استعمال ایسے محل پر زیادہ موزوں سمجھا جاتا تھا۔سر سید مر حوم لکھتے ہیں :- " میجک لیٹن اس وقت یہاں کوئی نہیں جانتا خواہ اس کا یہی نام لیں خواہ فانوس جادو کہیں۔خواہ اجنبی کا تماشہ کہیں ہر گز کوئی نہیں سمجھے گا۔لیکن اگر وہ مشاہدہ میں عام ہو جائے اور استعمالوں میں جاری ہو جائے تو الٹے سے الٹا اس کا نام رکھ دیں۔وہی چہ چہ کی زبان پر مشہور ہو جائے گا۔اور وہی ہم سمجھیں گے۔“ ( مقالات سرسید ) اس عبارت میں استعمال کی تکرار ظاہر کرنے کے لئے استعمالوں بصورت جمع استعمال کیا گیا ہے۔گو آج کل اس کا استعمال کم ہوتا ہے۔تذکیر و تانیث اردو کے الفاظ کی تذکیر و تانیث کے بارہ میں ادباء میں بہت اختلاف رہا ہے۔بعض ادیب اسے اپنے ذوق کے مطابق ایک لفظ کو مذکر استعمال کرتے تھے تو دوسرے اسی لفظ کو مونث۔اور ابھی تک تمام الفاظ کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوا پھر یہ بھی واضح رہے کہ کا، کے ، کی، کے الفاظ جس سے اسماء کی تذکیر و تانیث ظاہر ہوتی ہے کے متعلق پر انارسم الخط (شکستہ ) کا تبوں پر ملتبس بھی ہو جاتا تھا اور پرانے طریق کتابت میں پائے معروف و مجہول کے لکھنے میں بھی کوئی فرق نہیں کرتے تھے۔البتہ پڑھنے والا خود اسے صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھ لیتا تھا۔چونکہ برق صاحب کو یائے مجہول کے پرانے طریق کتابت کو پڑھنے کا سلیقہ نہیں ہے اس لئے وہ صحیح پڑھنے سے تو خود عاجز ہیں اور مذکر کو مونث یا مونث کو مذکر کر دینے کا الزام دوسروں پر لگاتے ہیں۔