تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 586 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 586

۵۸۶ تیسرا سبیل سبیل چونکہ عربی زبان میں مذکر ہے اس لئے قرآنی اتباع میں حضرت اقدس نے اسے مذکر استعمال فرمایا ہے۔کلام کے بینات“ اور ”کلام کے دلالات“ میں ” کے “ کی جگہ "کی" 166 9966 پڑھیں۔اور مسیح کی ظہور میں بجائے ” کی ” کے پڑھیئے۔” جیسے موسوی شریعت“ میں ” جیسے “ پڑھیئے۔بے شک حضرت اقدس نے ابتداء “ کے لفظ کو شروع کے معنوں میں مذکر 66 استعمال فرمایا ہے۔ابتداء مصدر ہے۔مصدر کو مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔آیات صغری کو مونث ہی استعمال کیا گیا ہے۔جس کے لئے شروع ہو گئی تھیں“ سے پہلے ” ظاہر ہونے کی بجائے ” ظاہر ہونی " پڑھیئے۔اوپر ہم نے سر سید احمد خان کی تحریر کا جو نمونہ دیا ہے اس میں اچھے " کی جگہ اچنبی لکھا گیا ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ یائے معروف و مجہول کے لکھنے میں فرق نہیں کیا جاتا تھا۔دراصل لفظ اس جگہ اچھے ہے نہ کہ اچنبی۔" قیمت پیشگی کتابوں کا بھیجنا منظور نہیں “ لفظ ”کا“ ”قمیت“ مونث کی مناسبت سے نہیں لکھا گیا۔بلکہ اس کا استعمال بھیجنا مذکر کی مناسبت سے کیا گیا ہے اور یہ آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے کا اسلوب بیان تھا۔" مرض اہل پنجاب مرض کو عموم ہماری کے معنوں میں مونث ہی استعمال کرتے ہیں۔اس لئے حضرت اقدس نے اسے مونث استعمال فرمایا۔9966 زبان خدا کے ہاتھ میں ایک آلہ ہوتا ہے " ہوتا ہے " فعل مذکر آلہ کی مناسبت سے استعمال کیا گیا ہے نہ زبان کی مناسبت سے۔پس زبان مونث ہی ہے اور مونٹ ہی استعمال کی گئی ہے۔