تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 584 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 584

۵۸۴ تو در منزل ما چو بار بار آئی خدا ابر رحمت بیارید یا نے (حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۷۷ طبع اول) اس طرح اسے شعر قرار دے کر اس پر معترض ہیں کہ پہلا مصرع بے وزن ہے۔وزن قائم رکھنے کے لئے بار بار کو بر بار پڑھنا ہو گا جو صریحاً غلط ہے۔الجواب (حرف محرمانه صفحه ۳۷۲) یہ الہامی عبارت در اصل شعر نہیں بلکہ نثر کے دو فقرے ہیں۔لہذا یہاں وزن اور تقطیع کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ حضرت اقدس نے نہ اسے شعر قرار دیا ہے اور نہ ہی شعر کی صورت میں لکھا ہے۔بلکہ مسلسل عبارت کی صورت میں لکھا ہے۔افسوس ہے کہ برق صاحب نے اسے شعر ظاہر کرنے کے لئے از خود اس کو درج کرتے ہوئے اس کے شروع میں یوں شعر کی علامت ڈال دی ہے ماشاء اللہ کیا دیانت ہے۔فارسی زبان کے الفاظ سے اردو الفاظ کی تراکیب حضرت اقدس کے زمانہ میں اردو زبان ابھی منت پذیر شانہ اور ادیب نئی سے نئی تراکیب وضع کر رہے تھے۔کبھی عربی لفظ کو اردو لفظ سے مرکب کرتے تھے اور کبھی " 66 فارسی سے مرکب کر دیتے تھے۔لہذا قابل ہنسی“ اور مہینہ رمضان “اور ” بے باپ “ کی تراکیب مرکب اضافی نہیں۔ایسی تراکیب ہرگز قابل اعتراض نہیں۔اسی طرح گور نمنٹ محسنہ انگریزی کی ترکیب بھی اردو زبان کے محاورہ کے ہر گز خلاف نہیں۔اردو زبان تو ہے ہی لشکری زبان۔جس میں ہر زبان کے الفاظ فروغ پارہے تھے۔" قلت بارشوں اور کثرت بارشوں میں بھی ترکیب اضافی نہیں۔اس قسم کی ترکیب کا