تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 575 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 575

دیئے۔۵۷۵ بالآخر عرض ہے کہ جزئیات کا لفظ اردو میں مذکر استعمال ہوتا ہے نہ کہ مونث۔ملاخطہ ہو جامع اللغات جلد ۲ صفحہ ۳۵۱ یہاں لکھا ہے :- جزئیات جزئی کی جمع ( مذکر) پس جزئیات کے اس عبارت میں مذکر استعمال کئے جانے پر بھی برق صاحب کا اعتراض لغو ہے۔نمبر ۳ : " پھر جب ہم اس آیت پر نظر ڈالیں کہ جو اللہ جلعان، قرآن شریف میں فرماتا ہے۔“ - (ازالہ اوہام صفحہ ۴۳۲) اس پر برق صاحب معترض ہیں کہ کیا کوئی آیت بھی ہے جو قرآن میں نہ ہو تو پھر "جو اللہ جلعانه قرآن شریف میں فرماتا ہے " کی ضرورت ؟ یہ ابتداء میں "پھر" کی کیا حاجت اور یہ کہ جو کا گل جوڑ بھی خوب ہے۔اسم موصول (جو آدمی، جس کتاب ) وغیرہ سے پہلے کہ " کا استعمال معیوب ہو تا ہے۔" ڈالیں " کی جگہ " ڈالتے ہیں " چاہیے۔(حرف محرمانه صفحه ۳۶۸) الجواب برق صاحب کے یہ تمام اعتراضات لغو ہیں۔پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہاں صاحب ایسی آیتیں بھی موجود ہیں۔جو قرآن مجید میں نہیں ہیں۔انجیل اور تورات اور صحت انبیاء کی آیات اسی قبیل سے ہیں جن کو برق صاحب عیسائیوں کی طرح غیر مبدل سمجھتے ہیں۔ملاحظہ ہو ان کی کتاب ”دو اسلام“۔اور لفظ پھر ابتداء میں نہیں آیا بلکہ اپنے سے بعد والے مضمون کو پہلے مضمون پر متفرع کرنے کے لئے آیا ہے۔اسم موصول " جو " سے پہلے " کہ " کا استعمال پرانے مستند ادیب بھی کرتے