تحقیقِ عارفانہ — Page 576
۵۷۶ رہے ہیں۔چنانچہ میر تقی میر جو دنیائے ادب میں خدائے سخن قرار دیئے جاتے ہیں فرماتے ہیں :- مقامر خالہ آفاق وہ ہے کہ جو آیا ہے یاں کچھ کھو گیا ہے جناب برق صاحب ! آپ نے خواجہ میر درد دہلوی علیہ الرحمتہ کا یہ مشہور شعر تو پڑھا ہو گا :- تر دامنی پر شیخ ہماری نہ جائیو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں اور اس سے لطف بھی لیا ہو گا۔ان کی اسی غزل کے مطلع میں آپ ذرا کہ جوم کا استعمال دیکھیں۔فرماتے ہیں :- ہم تجھ سے ہوس کی فلک جستجو کریں دل ہی نہیں رہا کہ جو کچھ آرزو کریں جناب برق صاحب پر واضح ہو کہ اس قسم کے الفاظ کے لئے صرف یہ دیکھ لینے کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس زمانہ میں یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اس زمانے کے مستند شعراء اور مسلم اساتذہ نے بھی انہیں استعمال کیا ہے یا نہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ جناب میر تقی کے زمانے سے لے کر غالب خواجہ وزیر اور اکبر الہ آبادی کے عہد تک سب نے الفاظ جو کہ استعمال کئے ہیں مزید مثالیں ذیل میں ملاحظہ ہوں :- میر تقی میر فرماتے ہیں :- افسوس وہ شہید کہ جو قتل گاہ میں لگتے ہی اس کے ہاتھ کی تلوار مر گئے مقامر خانہ آفاق وہ ہے کہ جو آیا ہے یاں کچھ کھو گیا ہے