تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 574 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 574

۵۷۴ الجواب جناب برق صاحب! دیکھی گئی اور دریافت کی گئی جملوں کو بے کار کہنا اور جزئیات دکھا دیئے اور سکھا دیے کو مہمل قرار دینا بالکل ہی بیکار اور مہمل بات ہے۔کیونکہ ان فقروں کا اجماع کی حقیقت بیان کرنے کے لئے اس محل پر ذکر کیا جانا از بس ضروری تھا۔افسوس ہے کہ برق صاحب نے ان جملوں کو میکار اور معمل ثابت کرنے کے لئے دانستہ اخفائے حق سے کام لیا ہے۔کیونکہ انہوں نے اعتراض پختہ کرنے کی خاطر اس عبارت کے بعد کا فقرہ درج نہیں کیا جس سے ان فقرات کا مفید ہونا جنہیں وہ میکار اور معمل قرار دے رہے ہیں ظاہر وباہر تھاوہ فقرہ یہ ہے :- " جیسے صلوۃ و صوم و حج و عقائد توحید و ثواب و عقاب۔“ اس عبارت کو پہلی عبارت کے ساتھ ملانے سے ظاہر ہے کہ ان امور شرعیہ پر اجماع امت اس وقت ہوا جب کہ پہلے آنحضرت ﷺ نے یہ مسائل قولی طور پر سمجھا دیئے اور پھر عملی مسائل پر خود عمل کر کے امت کو دکھا دیا اور اس طرح اپنا نمونہ امت کے سامنے پیش فرما دیا۔بعد ازاں علمائے امت نے ان کی حقیقت قرآن مجید اور احادیث نبویہ اور امت کے تعامل سے ٹھیک ٹھیک ”دریافت کر کے ان مسائل پر اتفاق کیا۔اور ایسے ہی مسائل اجتماعی قرار پائے۔پس برق صاحب کا حذف کردہ فقر و اس بات کے لئے قومی قرینہ ہے کہ حقیقت قومی سمجھادی گئی کے بعد دکھا دی گئی اور دریافت کی گئی کے دونوں جملے بیکار نہیں بلکہ اجماع کی حقیقت سمجھانے کے لئے ان کا بیان کرنا نہائت ضروری تھا۔اسی طرح وہ تمام جزئیات سمجھا دیئے کے بعد دکھا دئیے اور سکھلا دئیے بھی مہمل جملے نہیں بلکہ مراد ان سے یہ ہے کہ جن جزئیات پر امت کا اجماع ہوا ہے یہ وہ جزئیات ہیں جو خود شارع علیہ السلام نے قولاً امت کو سمجھا دیئے اور پھر ان پر عمل کر کے امت کو دکھا دئیے اور پھر بواسطہ تعامل امت کو سکھا