تحقیقِ عارفانہ — Page 573
الجواب ۵۷۳ ایک بات کو ادا کرنے کے زبان میں کئی اسلوب ہوتے ہیں لہذا اس کلام میں جو زور ”سو بعد اس کے کہ “ کے الفاظ سے پیدا کرنا مقصود ہے وہ ”جب“ کے لفظ سے پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔اپنے اعجازی بیانات “ میں ” اپنے " کا لفظ بے کار نہیں بلکہ تاکید کا فائدہ دے رہا ہے۔جناب برق صاحب کی بات مانی جائے تو تاکید کا باب ہی لغو قرار دینا پڑے گا۔اور تاکید کالا نا لغو نہیں ہو تالہذا اعتراض لغو ہے۔اعجازی بیانات اور تاثیرات احیاء موتی کا مرکب ہر گز مہمل اور بے ربط نہیں۔تاثیرات احیاء موتی میں تو صرف دو اضافیں موجود ہیں اور یہ کوئی عیب نہیں۔ہم تین پے در پے اضافتوں کے نمونے قرآن مجید اور اساتذہ زبان کے کلام سے پیش کر چکے ہیں۔اس جگہ تو صرف دو اضافیں موجود ہیں۔جناب برق صاحب اوہ پے در پے اضافیں مخل فصاحت ہوتی ہیں جو طبیعت پر گراں گذریں اور دو اضافتوں کا استعمال تو مخل فصاحت سمجھا ہی نہیں جاتا۔اوپر اساتذہ کے کلام سے اس کی کئی مثالیں دی جاچکی ہیں۔نمبر ۲: "اجماع ان امور پر ہوتا ہے جن کی حقیقت طوملی سمجھی گئی اور دیکھی گئی اور دریافت کی گئی۔اور شارع علیہ السلام نے ان کے تمام جزئیات سمجھا دیے دکھا دئیے (ازالہ اوہام صفحہ ۴۲۷ طبع اوّل) برق صاحب کا اس پر یہ اعتراض ہے کہ دیکھی گئی " اور " دریافت کی گئی" اور سکھلا دئیے۔“ بے کار جملے ہیں۔جزئیات مونث ہے اس لئے کی چاہیے۔یہ جزئیات دکھانا اور سکھانا مہمل ہے۔(حرف محرمانه صفحه ۳۶۸)