تحقیقِ عارفانہ — Page 566
الجواب ۵۶۶ شہادت یا گواہی سے مقصود کسی امر کا ثابت کرنا ہوتا ہے۔اس عبارت میں شہادت کے بعد گواہی کا لفظ مجازاً ثبوت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے پس یہ تکرار بیح ہے قبیح نہیں۔نمبر ۳:- برق صاحب نے تریاق القلوب کا ایک شعر پیش کیا ہے اور مذاق اڑانے کے لئے اسے غلط بھی لکھا ہے۔لکھتے ہیں :- چنیں زمانہ چنیں و در میں چنیں برکات تو بے نصیب روی وہ چہ ایس شقلباشد ( تریاق صفحہ ۷ ) اعتراض کیا ہے کہ چینیں کی گردان ملاحظہ ہو۔(حرف محرمانہ صفحہ ۳۶۳) الجواب اصل شعر یوں ہے۔چنیں زمانہ چنیں دور این چنیں برکات تو بے نصیب روی وہ چہ اس شق باشد تریاق القلوب صفحه ۴ طبع اول) چنیں کی تکرار پہلے مصرع میں نہایت خوش آئند اور موزون ہے جو کلام کو زور دار بنا رہی ہے اور ترنم میں بھی محمد ہے۔مگر افسوس ہے کہ جناب برق صاحب تعصب اور عناد کی وجہ سے اس کا لطف نہیں اٹھا سکے۔پس دیکھئے حضرت اقدس کا یہ مصرع که :- تو بے نصیب روی وه چه این شقا باشد کیسا ان کے حسب حال ہے۔حالانکہ وہ خود کئی مرتبہ فارسی کے اس مشہور شعر کا لطف اٹھا چکے ہوں گے۔اگر فردوس بروئے زمین ست ہمیں ست و ہمیں ست و ہمیں ست