تحقیقِ عارفانہ — Page 567
۵۶۷ کیا اس شعر میں ”ہمیں کی تکرار برق صاحب کی طبع نازک پر گراں نہیں گزرتی سوداء کہتے :- اشک آتش و خون آتش و ہر لخت دل آتش آتش پر برستی ہے بڑی فصل آتش برق صاحب ! سنی آپ نے آتش کی گردان سوداء کے کلام میں شیفتہ فرماتے ہیں :- کس تجاہل سے یہ کہتا ہے کہ کہاں رہتے ہو اشک کہتے ہیں :- تیرے کوچے میں ستم گار تیرے کوچے میں میخانہ ہو گیا ہے پری خانہ ان دنوں اے رشک آفتاب دی تو یدی شراب پھر جناب برق صاحب اپنی کتاب کے صفحہ ۲۶۳ پر غالب کے مصرع :- اور اقبال کے مصرع :- خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں سبزہ جہاں جہاں ہیں نالہ چمن چمن نگر اور اپنے پرانے اشعار میں مسلکی مسکی اور نیکی نیکی اور دہکار ہرکا اور بھیگی بھیگی اور زرہ زرہ کی تکرار د کھاتے ہوئے اس تکرار کو تو ترنم اور زور دینے کے لئے قرار دے چکے ہیں۔مگر حضرت اقدس سے شعر میں انہیں چین کی تکرار نہ ترنم کا فائدہ دینے والی دکھائی دیتی ہے اور نہ کلام میں زور پیدا کرنے والی معلوم ہوتی ہے۔دراصل یہ برق صاحب کی سیاہ عینک کا قصور ہے۔جو انہوں نے حضرت اقدس کا یہ شعر پڑھتے ہوئے لگائی ہے۔نمبر ۴:۔میں برق صاحب حضرت اقدس کا یہ فقرہ نا مکمل پیش کرتے ہیں کہ :- ” در حقیقت تمام ارواح کلمتہ اللہ ہی ہیں جو ایک لا یدرک بھید کے طور پر