تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 547 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 547

چھٹا اعتراض ۵۴۷ برق صاحب حضرت مسیح موعود کی ایک عبارت یوں پیش کرتے ہیں :- ” جب اسلام کا آفتاب نصف النہار پر تھا اور اس کی اندرونی حالت گویا حُسن میں رشک یوسف تھی۔اور اس کی بیرونی حالت گویا اسکندریہ رومی کو شرمندہ کرتی (شهادت القرآن صفحه ۱۳ طبع اول) تھی۔“ برق صاحب کو اس پر یہ اعتراض ہے کہ یونان کے مشہور فاتح کا نام اسکندر تھا اسکندریہ نہیں تھا۔اسکندریہ مصر کا مشہور شہر ہے۔میر ہ روم کے ساحل پر جس کی مناء سکندراعظم نے ڈالی تھی۔الجواب (حرف محرمانه صفحه ۳۴۳) جناب برق صاحب ! اس عبارت میں اسکندر رومی مُراد نہیں بلکہ اسکندریہ مصر کا مشہور شہر ہی مراد ہے۔جو حیرہ روم کے ساحل پر واقع ہے۔اور جس کی بناء سکندر اعظم نے ڈالی تھی۔آپ حضرت مسیح موعود کا کلام نہیں سمجھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس عبارت میں اسلام کے عروج کے زمانہ میں اس کا ظاہری اور باطنی حسن تمثیلا بیان کر رہے ہیں۔اس کے باطنی حسن کے لحاظ سے اسے رشک یوسف قرار دیا ہے اور اس کی بیرونی حالت کو اسکندریہ کے خوبصورت شہر کو شر مندہ کرنے والی قرار دیا ہے۔ساتواں اعتراض برق صاحب آسمانی فیصلہ صفحہ ۱۵ اور شہادۃ القرآن صفحہ ۶۵ کے دو حوالے پیش کرتے ہیں۔پہلی عبارت کا مفاد یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی خارق عادت زندگی اور دوبارہ آنے کا ذکر قرآن میں نہیں اور دوسری عبارت میں بتایا گیا ہے کہ قرآن