تحقیقِ عارفانہ — Page 546
۵۴۶ یرمیاہ میں میت کے الفاظ مرنے کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔پس جب بائیل سے ہی حضرت اقدس نے شواہد پیش کر دئیے ہیں جن میں ”میت“ کے ترجمے میں قتل نہیں بلکہ موت بیان کی گئی ہے۔تو استثناء کی زیر حث آیت میں بھی ان شواہد کی بناء پر لوجہ پیشنگوئی مر جائے گاترجمہ ہی صحیح ہو گا۔ماضی کا لفظ پیشگوئیوں میں مستقبل کے معنوں میں استعمال ہو تا رہا ہے۔پانچواں اعتراض برق صاحب حضرت مسیح موعود کی عبارت یوں پیش کرتے ہیں :- حال ہی میں جو ایک شخص عبد الغفور نامی مرتد ہو کر آریہ سماج میں داخل ہوا (حقیقته الوحی صفحہ ۱۰۹ طبع اول) اور دھر مپال نام رکھا۔اس پر برق صاحب کو یہ اعتراض ہے کہ دھرم پال کا نام عبد الغفور نہیں تھا بلکہ محمود تھا جو بعد میں مشرف باسلام ہو گیا تھا۔(حرف محرمانہ صفحہ ۳۴۳) الجواب برق صاحب کا یہ اعتراض خود تا واقعی پر مبنی ہے۔دھر میال کا پہلا نام عبد الغفور ہی تھا۔یہ مسلمانوں سے مرتد ہو گیا تھا لیکن پھر دوبارہ مشرف باسلام ہو گیا تو اس نے اپنا نام محمود رکھا اور غازی محمود کہلاتا تھا۔مناظرات میں حصہ لینے والے اس بات سے خوب واقف ہیں کہ مرتد ہونے کے بعد عبد الغفور نے ”ترک اسلام“ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جس کے جواب میں حضرت مولانانور الدین نے ایک کتاب "نور الدین“ کے نام سے لکھی اور مولوی شاء اللہ صاحب نے بھی ترک اسلام کا جواب ترک اسلام کے نام سے دیا اور سوہدرہ کے ایک دوست نے اس کے جواب میں ایک کتاب "برق اسلام" کے نام سے لکھی تھی۔