تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 40 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 40

۴۰ یہ سب آیات جو نزول وحی کے متعلق ہیں بالأسرة هُم يُوقِنُون کے ایک بطن کی تفسیر ہیں۔پس بِالآخِرِةِ هُمْ يُوقِنُون میں آخرت کا لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں رسولوں کی بعثت کا امکان بھی آئندہ زمانہ میں ثابت ہے۔چنانچہ سورۃ اعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔11" بنِي آدَمَ إِمَّا يَا تِيَنَّكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي فَمَنِ اتَّقَى وَ أَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔“ 66 (الاعراف : ۳۶) ” یعنی اے بنی آدم اگر آئندہ تمہارے پاس تم میں سے رسول بنا کر بھیجے جائیں اس طرح پر کہ وہ تمہارے سامنے میرے نشانات بیان کرتے ہوں تو جو لوگ تقویٰ اختیار کریں اور اصلاح کریں ان کو ( آئندہ کے لئے ) کسی قسم کا خوف نہ ہو گا۔اور نہ وہ (ماضی کی کسی بات پر غمگین ہوں گے۔“ اس آیت میں صریح لفظوں میں بنی آدم کو خطاب کر کے ان میں سے آئندہ رسولوں کی بعثت کے امکان کی تصریح موجود ہے۔اور اس آیت کے سیاق میں بینی آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف: ۳۲) اور بعد کی دو آیتوں میں " قُل کا لفظ کہہ کر ایسے احکام بیان کئے گئے ہیں جو تمام بنی آدم کے لئے قیامت تک واجب الاطاعت ہیں اور اُن میں سے کسی حکم پر عمل ترک کرنے سے کوئی مسلمان سچا مومن نہیں ہو سکتا۔انہی احکام کے بعد بنی آدم کو یہ ہدایت دی گئی۔کہ آئندہ اگران میں سے رسول آئیں تو انہیں چاہئے کہ وہ تقویٰ اختیار کریں یعنی انہیں قبول کریں۔اور اپنی اصلاح کریں۔تو وہ نجات پائیں گے۔پھر سورۃ نساء کی آیت ہے مَن يُطع الله والرَّسُولَ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَ الصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رفيقا (النساء : ٧٠)