تحقیقِ عارفانہ — Page 39
۳۹ آخرت میں بھار تیں ملیں گی یہی بڑی کامیابی ہے۔“ اس آیت سے ظاہر ہے کہ اولیاء اللہ کو خدا تعالی کی طرف سے بذریعہ وحی بخار توں کا ملنا از روئے قرآن مجید ایک ضروری امر ہے۔اور بشارتوں کا ملنا بطریق وحی ہی ہو سکتا ہے پس یہ آیت بالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ کی قرآنی تفسیر ہے اور آیت بالا خِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اس بعد کی وحی پر یقین رکھنا بھی ضروری قرار دیتی ہے۔دوم: ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ اَوْلِيَاءُ كُمْ فِي الْحَيَوةِ ( حم السجدہ ۳۲،۳۱) الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ “ ”بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے۔اور پھر اس پر استقامت دکھائی ان پر خدا کے فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ تم کوئی خوف نہ کرو اور نہ غم کھاؤ اس جنت کی بشارت پاؤ جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو۔ہم تمہارے دنیا میں مددگار ہیں اور آخرت میں بھی۔“ یہ آیت گویا اوپر کی آیت لَهُمُ البشری کی تفسیر ہے اس سے ظاہر ہے کہ یہ بخار میں آئندہ نازل ہونے والے ملائکہ کے ذریعہ امت محمدیہ کے خاص لوگوں کو ملتی رہیں گی اور ملائکہ کے ذریعہ بشارتوں کا ملنا ہی نزول وحی ہے۔شیخ اکبر ابن عربی علیہ الرحمۃ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :- "هذا لتَنزَّلُ هُوَ النُّبوة العامة لا نُبُوَّة التشريع" فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحہ ۷ ۲۴ باب معرفته الاستقامت) دو یعنی ملائکہ کا اس طرح بشارت لانا نبوّتِ عامہ ہی ہے۔نہ کہ نبوت تشریعی۔“