تحقیقِ عارفانہ — Page 41
۴۱ اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول یعنی محمد مصطفی ملے کی اطاعت کریں۔وہ (مدارج پانے میں) ان لوگوں کے ساتھ ہیں۔جن پر اللہ تعالیٰ نے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین میں سے انعام کیا ہے اور یہ اطاعت کرنے والے ان لوگوں کے اچھے ساتھی ہیں۔اس آیت میں آئندہ نبیوں کی آمد کو بھی صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کی طرح آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے مشروط کر دیا گیا ہے۔یہ شرط انبیائے سابقین کے متعلق نہ تھی کیونکہ وہ خاتم الانبیاء ﷺ کے دنیا میں ظہور سے پہلے گزر چکے تھے۔پس خاتم الانبیاء کی تفسیر اس آیت کی روشنی میں یہ ہوئی کہ آئندہ کوئی نبی غیر قوموں یعنی ہندوں ، یہودیوں اور عیسائیوں وغیرہ میں نہیں آسکتا۔بلکہ مقام نبوت پانے کے لئے آئندہ کے لئے آنحضرت ﷺ کی اطاعت شرط ہے۔پس یہ آیت امت محمدیہ کے لئے نبوت مل سکنے پر روشن دلیل ہے اور آیت خاتم النبیین کے مثبت پہلو یعنی حقیقی لغوی معنی کی بھی تفسیر ہے۔اور خاتم النبیین کے لازمی منفی پہلو کی بھی تفسیر ہے۔مثبت پہلو کی تفسیر یوں ہے کہ یہ آئت بتاتی ہے آئندہ آنے والا نبی آنحضرت ﷺ کا مطیع اور امتی ہونا چاہئے۔اور منفی پہلو کی تفسیر یوں ہے کہ اب آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی مستقل نبی نہیں آسکتا۔پس خاتم النبیین کے معنی یہ ہوئے کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی اور افاضۂ روحانیہ سے آپ کے کسی امتی کو تو مقامِ نبوت مل سکتا ہے۔لیکن آپ کے دامنِ فیوض سے الگ رہنے والا کوئی فرد ہر گز مقامِ نبوت نہیں پا سکتا لہذا آنحضرت ﷺ ہی آئندہ کے لئے آخری مستقل نبی ہیں۔جن کی شریعت قیامت تک واجب الاطاعت ہے۔ہمارے یہ معنی اس لئے درست ہیں کہ اس آیت میں فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ جملہ اسمیہ ہے جو استمرار پر دلالت کرتا ہے۔لہذا مع کے لفظ سے اس دنیا میں معیت کو چاہتا ہے اور پہلے گزرے ہوئے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین سے آنحضرت ﷺ کی اطاعت کرنے