تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 38 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 38

ایک اعتراض ۳۸ جناب برق صاحب حرف محرمانہ “ کے صفحہ ۲۵ پر لکھتے ہیں :۔حضرت مسیح نیسیوں پیرایوں میں ایک بد جلال رسول کی آمد کا اعلان کر رہے ہیں۔66 اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا (یوحنا باب ۱۴، آیت ۳۰) لیکن قرآن حکیم میں کسی آنے والے نبی کا اشارہ تک موجود نہیں۔بلکہ حضور علیہ السلام کو خاتم الانبیاء قرار دینے کے بعد تقریباً ایک سو آیات میں اس حقیقت کو بار بار دہرایا ہے کہ اب قیامت تک کوئی اور وحی نازل نہیں ہو گی۔“ صفحہ ۲۵ -۲- اگر حضور علیہ السلام کے بعد کسی نبی کی آمد مقدر ہوتی۔کیا یہ ممکن تھا کہ وہ امت مسلمہ کو ایک نبی کی آمد سے غافل رکھتا۔اور حضور علیہ السلام کے بعد صرف قیامت پر ہی ایمان لانے کا حکم دیتا۔الجواب (حرف محرمانه صفحه ۲۶) قرآن مجید نے آنحضرت مے کے بعد وحی مبشرات نازل ہونے کا بھی ذکر فرمایا ہے اور آئندہ رسولوں کی آمد کا بھی امکان قرار دیا ہے۔آئندہ وحی کے نزول کے متعلق دو آئیں ملاحظہ ہوں۔- اوّل : أَلاَ إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ البُشرى فى الحيوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللَّهِ ذَالِكَ هُوَ (یونس : ۶۳ تا ۶۵) الْفَوْزُ الْعَظِيمُ وو ،، یعنی سن لو جو اللہ کے پیارے ہیں انہیں کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ان کو دنیا اور