تحقیقِ عارفانہ — Page 37
۳۷ مِثْلَ رِيحِ المِسْكِ يَعْرِفُهُ الأَوَّلُونَ وَالْآخَرُونَ يَقُولُونَ فُلَانٌ عَلَيْهِ طَابِعُ الشُّهَدَاءِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَاهُ أَسْنَادِهِ تِقَاةَ “ " ترغیب ترهيب للمنذری بر حاشیہ مشکوۃ مطبع نظامی دتی صفحه ۲۱۹) بر یعنی حضرت ابو الدرداء صحابی سے روائت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو خدا کی راہ میں (جہاد) میں زخمی ہو جائے اس پر خاتم الشہداء کی مہر لگائی جاتی ہے (جس کے اثر سے ) اس کے لئے قیامت کے دن ایک نور ہو گاز خم کا رنگ زعفرانی رنگ کی طرح ( سرخ قانی) ہو گا۔اور اس کی خوشبو کستوری کی خوشبو جیسی ہو گی۔اسے سب پہلے اور پچھلے لوگ ان علامتوں سے ) پہچان لیں گے کہیں گے فلاں پر تو طابع الشہداء (شہدا کی مصر) ہے۔روائت کیا اسے احمد نے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں۔اس حدیث میں خاتم الشہداء کے مجروح فی سبیل اللہ پر لگنے سے بجز اس کے کچھ مراد نہیں کہ خاتم الشہداء (شہداء کی مہر) کے اثر سے یہ مجروح فی سبیل اللہ شہداء میں شامل ہو گا۔اور اس کے اثر سے قیامت کے دن اسے جو نور ملے گا اس سے تمام پہلے اور پچھلے لوگوں کو تصدیق ہو جائے گی کہ جس شخص پر طابع الشہداء (شہداء کی مر ) لگی ہوئی ہے اسے شہید قرار دیا گیا ہے۔پس اس حدیث میں خاتم اور طابع دو نو لفظ مہر کے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں اور خاتم الشہداء اور طالع الشہداء سے مطلق آخری شهید مراد نہیں۔بلکہ شہید قرار دینے والی اور شہید ہونے کی مصدق مہر مراد ہے۔لہذا ظاہر ہے کہ اس حدیث میں خاتم کا لفظ اپنے حقیقی لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے اور ایجاد و تاثیر کا مفہوم رکھتا ہے۔اس جگہ آخری کے مجازی معنی ہر گز چسپاں نہیں ہو سکتے۔