تحقیقِ عارفانہ — Page 396
یعنی حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے روائت ہے کہ میری ایک بیوی تھی جس سے مجھے بہت محبت تھی لیکن میرے باپ (حضرت عمرؓ) اس سے بہت نفرت رکھتے تھے۔انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں۔میں نے اس بات کا آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اے عبداللہ بن عمر اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔66 اسی طرح صحیح خاری کی حدیث میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب حضرت اسمعیل کو وادی مکہ میں چھوڑ آئے۔اور ان کے وہاں جوان ہونے پر پھر مکہ گئے تو اس وقت حضرت اسمعیل علیہ السلام گھر میں نہ تھے انکی بیوی گھر میں تھی۔آپ اس سے باتیں کرتے رہے اور جاتے ہوئے اُسے کہہ گئے کہ جب اسمعیل علیہ السلام گھر آئیں تو انہیں میر اسلام کبد دینا اور یہ کہنا غیر عتبة بابك کہ اپنے دروازے کی و لیزر بدل دو۔جب حضرت اسمعیل گھر آئے تو ان کی بیوی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پیغام دیا۔اس پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا :- أخرى ذاك أبي وَقَدْ أَمَرَنِي أَنْ أَفَارِقَكِ الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَطَلَّقَهَا وَتَزَوَّجَ مِنْهُمُ ( صحیح بخاری جلد ۲ کتاب بدء الخلق) یعنی وہ میرے والد ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ مجھے یہ حکم دے گئے ہیں کہ میں تجھے طلاق دیدوں۔پس تو اپنے والدین کے پاس چلی جا! آپ نے اسے طلاق دیدی اور ہو جرہم کی ایک اور عورت سے شادی کر لی۔" پس مرزا فضل احمد کی بیوی کے مخالفین پیشگوئی سے روابط کی وجہ سے دینی غیرت کا بھی یہی تقاضا تھا کہ اسے طلاق دلوائی جائے۔اور اگر فضل احمد طلاق نہ دے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام قطع تعلق کر لیں۔اور دینی مخالفت کی بناء پر انہیں محروم الارث کر دیں۔