تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 395 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 395

۳۹۵ تھا۔یہ اشارو رکھتا ہے کہ احمد بیگ کی موت آخری مصیبت ہو گی۔اور محمدی بیگم کا خاوند تو بہ اور رجوع سے فائدہ اٹھا کر بچ جائے گا اور صرف پیشگوئی کی تکذیب کرنے کی صورت میں اس کی موت کی دوبارہ میعاد مقرر کرنے کی ضرورت ہو گی۔ورنہ اس کے شرط تو بہ سے فائدہ اٹھا لینے کے بعد توبہ پر قائم رہنے کی صورت میں نکاح کا وقوع ضروری نہیں ہو گا۔چنانچہ مرزا سلطان محمد تو بہ پر قائم رہے۔اس لئے نکاح کا وقوع میں نہ آنا قابل اعتراض نہیں۔کیونکہ وعیدی پیشگوئیاں الہی سنت کے مطابق تو بہ سے فائدہ اُٹھا لینے پر مل جاتی ہیں اور اس جگہ نکاح کی بشارت بیوگی کی شرط سے مشروط اور معلق تھی جو خاوند کی پائیدار تو بہ کی وجہ سے ٹل گئی۔فضل احمد کو بیوی کو چھوڑنے اور محروم الارث ہونے کا نوٹس بلاوجہ نہیں دیا گیا تھا۔چونکہ مرزا فضل احمد صاحب کی بیوی کا تعلق مخالفین کے کنبہ سے تھا اور وہ خود بھی مخالفین میں سے تھی اور الہام الہی بتاتا تھا کہ جو لوگ ایسے مخالفین سے علیحدہ نہ ہوں اور ان سے تعلقات قائم رکھیں ان پر عذاب الہی نازل ہو گا۔اس لئے مرزا فضل احمد کی میدی کے مخالفین میں شامل ہونے کی وجہ سے اس سے قطع تعلق مموجب الهام بذا ضروری ہو جاتا تھا۔حضرت اقدس کی اپنے بیٹے کیلئے شفقت آپ کو مجبور کرتی تھی کہ وہ اپنی بیوی سے قطع تعلق کرلے تاکہ وہ بھی اس تعلق کی وجہ سے عذاب کا مورد نہ ہو جائے۔احادیث نبویہ سے ثابت ہے کہ اگر باپ بہو کو نا پسند کرتا ہو تو بیٹے کو باپ کے کہنے پر بیوی کو طلاق دے دینی چاہیئے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے :- عَنِ ابْنِ عَمَرَ قَالَ كَانَتْ تَحْتِى اِمْرَأَةٌ أُحِبُّهَا وَكَانَ أَبِى يَكْرَهُهُمَا فَأَمَرَنِي أَنْ أُطلِقَهَا فَذَكَرْتُ ذَالِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ عُمَرَ طَلِقُ امْرَاءَ تَكَ ترندی کتاب الطلاق و مشکوۃ مجتبائی صفحہ ۴۲۱ باب الشعة)