تحقیقِ عارفانہ — Page 363
۳۶۳ ہوئے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ غفور ورحیم بھی ہے اور اپنے دوسرے بندوں کی بھی سنتا اور رحم کرتا ہے۔“ اس آخری فقرہ میں مرزا سلطان محمد صاحب نے اپنی توبہ واستغفار کا اظہار کیا ہے اور پہلے فقرہ میں پیشگوئی کی تصدیق کی ہے اس کے باوجود مزید وضاحت کیلئے حافظ جمال احمد صاحب نے اُن سے سوال کیا۔” آپ کو مرزا صاحب کی پیشگوئی پر کوئی اعتراض ہے ؟ یا یہ پیشگوئی آپ کیلئے کسی شک و شبہ کا باعث ہوئی“؟ اس کے جواب میں مرزا سلطان محمد صاحب نے کہا :۔" یہ پیشگوئی میرے لئے کسی قسم کے بھی شک وشبہ کا باعث نہیں ہوئی۔“ اور یہ بھی کہا :- ”میں قسمیہ کہتا ہوں کہ جو ایمان و اعتقاد مجھے حضرت مرزا صاحب پر ہے میرا خیال ہے کہ آپ کو بھی جو بیعت کر چکے ہیں اتنا نہیں ہو گا۔“ اس پر حافظ جمال احمد صاحب نے سوال کیا کہ آپ بیعت کیوں نہیں کرتے ؟ مرزا سلطان محمد نے جواباً کہا :- اس کی وجوہات کچھ اور ہیں جن کا اس وقت بیان کرنا میں مصلحت کے خلاف سمجھتا ہوں۔“ اور اس سلسلہ میں یہ بھی کہا کہ :۔۔i ” میرے دل کی حالت کا آپ اس سے بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے وقت آریوں نے لیکھرام کی وجہ سے اور عیسائیوں نے آتھم کی وجہ سے مجھے لاکھ لاکھ روپیہ دینا چاہا تا کہ میں مرزا صاحب پر مالش کروں اگر وہ روپیہ میں لے لیتا تو امیر