تحقیقِ عارفانہ — Page 340
۳۴۰ وو قضائے معلق کی دو قسمیں ہیں ایک وہ قضاء ہے جس کا معلق ہونا لوح محفوظ میں ظاہر کر دیا گیا ہوتا ہے۔اور فرشتوں کو اس ( تعلیق ) پر اطلاع دے دی جاتی ہے۔اور ایک قضائے معلق وہ ہے جس کا معلق ہو نا صرف خدا تعالیٰ جل شاید ہی جانتا ہے۔اور لوح محفوظ میں وہ قضائے مہرم کی صورت میں ہوتی ہے۔یہ آخری قسم قضات معلق (جو صورة مبرم ہوتی ہے) پہلی قسم کی قضا کی طرح تبدیلی کا احتمال رکھتی 66 ہے۔“ (ترجمه از فارسی مکتوبات مجددالف ثانی جلد اول صفحه ۲۲۴)