تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 288 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 288

۲۸۸ وہ لوگ جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔“ (حرف محرمانہ صفحہ ۲۰۶،۲۰۵) برق صاحب اس مشورہ کو پسند کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- " بہت عمدہ مشورہ ہے۔( حرف محرمانہ صفحہ ۲۰۶) لیکن لکھتے ہیں :- ۱۲۳ اپریل ۱۹۳۰ء کو ایک نوجوان احمدی محمد علی نے مولوی عبد الکریم اور اس کے ساتھی محمد حسین پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔عبد الکریم گھائل ہوئے اور محمد حسین ہلاک ہوئے۔ملزم ۱۶ مئی کو سپردِدار ہوا۔اس کے جنازہ کو خلیفہ اسیح نے کندھا دیا۔اور وہ نوجوان نہایت احترام سے بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوا۔“ الجواب محمد علی ایک نیا پٹھان احمدی تھا۔جسے احمدیت کے مسلک سے پورے طور پر واقفیت نہ تھی۔وہ عبد الکریم مباہلہ والے کی شرارتوں سے جوش میں اگر ان پر حملہ آور ہوا۔اور مجمد حسین اس حملہ میں اس کی غلطی سے ہلاک ہو گیا۔اور وہ گرفتار ہو کر جب جیل میں گیا تو اسے فہمائش کی گئی کہ تم نے یہ فعل احمدیت کی تعلیم کے خلاف کیا ہے۔نے سے سزا وجہ سے جس پر اس نے توبہ کی باقی جرم کی اس نے حکومت سے سزاپالی اس کی توبہ کی وجہ سے ہی حضرت خلیفہ الیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس کے جنازہ کو کندھا دیا۔اور توبہ کر لینے کی وجہ سے ہی وہ مطابق وصیت بہشتی مقبرہ میں دفن ہوا۔☆