تحقیقِ عارفانہ — Page 287
۲۸۷ کی اصلاح ہونی چاہئے۔چنانچہ ان مشوروں کے مطابق ایک حد تک تھر میں اور سمرنا کے معاملہ میں پچھلے معاہدہ میں اصلاح بھی کی گئی ہے۔ہم نے عربوں کے معاملہ میں لکھا کہ وہ غیر قوم اور غیر زبان رکھتے ہیں۔وہ آزادانہ رہنا چاہتے ہیں۔نہ ان کو ترکوں کے ماتحت رکھا جائے نہ اتحادی ان کو اپنے ماتحت رکھیں۔پس ہم سے جس قدر ہو سکتا تھا۔ہم نے کیا۔رسالے ہم نے لکھ کر شائع کئے۔چٹھیاں میں نے گورنمنٹ کو لکھیں اور جو غلطیاں میں نے گورنمنٹ کو بتائیں۔گورنمنٹ نے فراخ حو صلگی سے ان میں سے بعض کو تسلیم کیا۔اور ان کی اصلاح کے متعلق کوشش کرنے کا وعدہ کیا۔ہم نے ہز ایکسی لینسی گورنر پنجاب کو میموریل بھیجا۔ہم نے گورنر جنرل کو بھی لکھا۔ولائت میں اپنے مبلغین کو ترکوں سے ہمدردی اور انصاف کرنے کے متعلق تحریک کرنے کے لئے ہدایت کی۔امریکہ میں اپنا مبلغ بھیجا کہ علاوہ تبلیغ اسلام کے ترکوں کے متعلق جو غلط فہمیاں ان لوگوں میں مشہور ہیں ان کو دور کرے چنانچہ وہ وہاں علاوہ تبلیغ اسلام کے یہ کام بھی کر رہا ہے۔اور کئی اخبارات میں ترکوں کی تائید میں آرٹیکل لکھے گئے ہیں۔غرض ہماری طرف سے باوجود ترکوں سے بے تعلق ہونے کے محض اسلام کے نام میں شرکت رکھنے کے باعث ان کے لئے اس قدر جدو جہد کی گئی ہے۔مگر ترکوں نے ہمارے لئے کیا کیا ؟ جب ہمارے بعض آدمی ان کے علاقہ میں گئے تو ان کو گرفتار کر لیا گیا۔“ ( الفضل جلد ۸ نمبر ۷۶ ۷۷ مؤرخہ ۱۱، ۱۴، اپریل ۱۹۲۱ء صفحہ ۵) برق صاحب کا آخری اعتراض برق صاحب حرف محرمانہ کے باب ہفتم کے آخر میں یوں معترض ہیں :- جب ۱۹۲۹ء میں لاہور کے ایک آریہ راجپال نے حضور کے خلاف ایک وو کتاب رنگیلار سول“ کے نام سے لکھی اور لاہور کے ایک نوجوان علم الدین نے اس کا کام تمام کر دیا تو حضرت خلیفہ اسکے نے فرمایا :- 66