تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 278 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 278

۲۷۸ معاف نہیں کیا کرتی۔اور مؤرخ کسی ظالم پر رحم نہیں کرتا۔مباحثات کی کتابیں حضرت مسیح موعود نے لکھا :-۔پرچہ نور افشاں لدھیانہ کا عیسائی اخبار) میں نہایت گندی تحریریں شائع ہو ئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈا کو تھا چور تھا زنا کار تھا ( معاذ اللہ) تو مجھے اندیشہ پیدا ہوا مبادا مسلمانوں کے دلوں پر کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔تب میں نے یہی مناسب سمجھا کہ اس عالم جوش کے دباؤ کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تاکہ سریع الغضب مسلمانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بد امنی پیدا نہ ہو۔۔۔سو میری یہ پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزار ہا مسلمان جو پادری عماد الدین کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آچکے تھے۔ایک دفعہ ان کے اشتعال فرو ہو گئے سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا۔اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اول درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ (ضمیمه تریاق القلوب نمبر ۳ صفحه ج) جناب برق صاحب یہ اقتباس حرف محرمانہ کے صفحہ ۱۹۳ پر درج کرنے انگریزی کا ہوں۔“ کے بعد لکھتے ہیں :- دیکھا آپ نے کہ پادریوں سے مباحثہ کرنے میں حکمت عملی کیا تھی یہی کہ وحشی مسلمانوں میں اشتعال پیدا نہ ہو۔اور حکومت کسی پریشانی کا شکار نہ ہو۔اب بتائیے کہ مسیح موعود نے دجال کو کہاں اور کس طرح قتل کیا۔“ "