تحقیقِ عارفانہ — Page 238
مولانا حسین احمد مدنی جیسے سیاسی لیڈر تحریر فرماتے ہیں :- اگر کسی ملک کا اقتدار اعلیٰ کسی غیر مسلم جماعت کے ہاتھوں میں ہو لیکن مسلمان بھی بہر حال اس اقتدار میں شریک ہوں اور ان کے مذہبی اور دینی شعائر کا احترام کیا جاتا ہو تو وہ ملک حضرت شاہ صاحب ( حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث قدس سرد انا قل) کے نزدیک بلا شبہ دار الا سلام ہوگا۔از روئے شرع مسلمانوں کا فرض ہو گا کہ وہ اس ملک کو اپنا ملک سمجھ کر اس کے لیے ہر نوع کی خیر خواہی اور خیر اندیشی کا معاملہ کریں۔“ نقش حیات جلد ۲ صفحه ۱۱) مولانا ابو الا علی صاحب مودودی رقمطراز ہیں۔66 ”ہندوستان اس وقت بلا شبہ دارالحرب تھا جب انگریزی حکومت یہاں اسلامی سلطنت کو مٹانے کی کوشش کر رہی تھی اس وقت مسلمانوں پر فرض تھا کہ یا تو اسلامی سلطنت کی حفاظت میں جانیں لڑاتے یا اس میں ناکام ہونے کے بعد یہاں سے ہجرت کر جاتے لیکن وہ مغلوب ہو گئے اور انگریزی حکومت قائم ہو چکی۔اور مسلمانوں نے اپنے پرسنل لا (مذہبی قوانین ناقل) پر عمل کرنے کی آزادی کے ساتھ یہاں رہنا قبول کر لیا۔تو اب یہ ملک دار الحرب نہیں۔“ ( سود حصہ اول حاشیہ صفحہ ۷ ۷ ۷۸۰ شائع کردہ مکتبہ جماعت اسلامی لاہور طبع اول) اس کے علاوہ مفتیانِ مکہ 1- جمال الدین بن عبد اللہ شیخ عمر حنفی مفتی مکہ معظمہ۔- حسین بن ابراہیم مالکی مفتی مکہ معظمہ۔- احمد بن ذہنی شافعی مفتی مکہ معظمہ نے بھی ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کا فتویٰ دیا تھا۔(دیکھئے کتاب سید عطاء اللہ شاہ بخاری مؤلفه شورش کا شمیری صفحہ ۱۳۱) نیک بندو ستان کے اہل حدیث اور ہر مکاتب فکر کے حنفی علماء کا فتوی یہی تھا