تحقیقِ عارفانہ — Page 237
دوسرے ملک اسلام میں جا کر مقیم نہ ہو۔غرض یہ کہ دارالحرب میں رہ کر جہاد کرنا اگلے پچھلے مسلمانوں میں سے کسی کے نزدیک ہر گز جائز نہیں۔“ (ترجمان وہابیہ صفحه (۱۵) مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی اہل حدیث کے شیخ الکل انگریزوں سے جہاد ممنوع قرار دیتے ہیں۔(دیکھئے فتاوی نذیر یہ جلد ۲ صفحہ ۷۳۴۷۲ ۲ مطبوعہ دی پر نٹنگ ورکس طبع اول ایضا دیکھیں صفحہ ۳۸٬۳۷ و فتوی صراط مستقیم مولانا اشرف صاحب تھانوی) سید احمد صاحب بریلوی مجدد صدی سیز دہم نے یہ سوال ہونے پر کہ آپ انگریزوں سے کیوں جہاد نہیں کرتے ؟ فرمایا۔”ہمارا اصل کام اشاعت توحید الہی اور احیاء سنن سید المرسلین ہے سو ہم بلاروک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں پھر ہم سر کار انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں۔" (سوانح احمدی صفحہ اے ا از مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری صوفی پر ملنگ کمیٹی بہاؤالدین) مولوی عبدالحی صاحب حنفی اور مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی حنفی ہندوستان کو اس زمانہ میں دارالاسلام قرار دیتے تھے۔( مجموعہ فتاوی مولوی عبدالحی لکھنوی جلد ۲ صفحہ ۲۳۵ مطبوعہ ۱۳۱۱ ھ و نصرت الابرار صفحه ۲۹ مطبوعہ مطبع صحافی لاہورامین منجی مولانا شبلی نعمانی بھی انگریزوں سے جہاد جائز نہیں سمجھتے تھے۔دیکھئے مقالات شبلی جلد اول صفحہ اے امطبوعہ مطبع معارف اعظم گڑھ۔اور خواجہ حسن نظامی کا بھی یہی فتویٰ تھا کہ انگریز مذ ہبی امور میں دخل نہیں دیتے اس لئے لڑائی کرنا اپنے تئیں ہلاکت میں ڈالنا ہے۔(شیخ سنوسی صفحہ ۱۷)