تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 239 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 239

۲۳۹ کہ انگریزوں سے جہاد ممنوع ہے۔کیونکہ ہندوستان انگریزوں کی عملداری میں دار الحرب نہیں بلکہ دار الاسلام ہے مفتیان مکہ بھی ہندوستان کے دار الاسلام ہو نی کا فتوی دے رہے تھے نہ کہ وارالحرب ہونے کا۔پھر سر سید احمد خان مرحوم لکھتے ہیں :- وو جب کہ مسلمان ہماری گورنمنٹ کے متامن تھے۔کسی طرح گورنمنٹ کی عملداری میں جہاد نہیں کر سکتے تھے۔“ ( اسباب بغاوتِ ہند شائع کردہ اردو اکیڈمی سندھ صفحہ ۱۰۶،۱۰۵) اور شمس العلماء مولوی نذیر احمد صاحب مرحوم دہلوی متر جسم قرآن مجید نے فرمایا تھا۔ہندوؤں کی عملداری میں مسلمانوں پر طرح طرح کی سختیاں رہیں اور مسلمانوں کی حکومت میں بعض ظالم بادشاہوں نے ہندؤں کو ستایا۔الغرض یہ بات خدا کی طرف سے فیصل شدہ ہے کہ سارے ہندوستان کی عافیت اس میں ہے کہ کوئی اجنبی حاکم اس پر مسلط رہے جو نہ ہندو ہو نہ مسلمان ہی ہو۔کوئی سلاطین یورپ میں سے ہو۔مگر خدا کی بے انتہا مہربانی اس کی مقتضی ہوئی کہ انگریز بادشاہ ہوئے۔(مولانا مولوی حافظ نذیر احمد صاحب مترجم قرآن دہلوی کے لیکچروں کا مجموعہ بار اول ۱۸۹۰ء ص ۴-۵) میں اپنی معلومات کے مطابق اس وقت کے ہندوستانی والیان ملک پر نظر ڈالتا تھا اور برما اور خیال اور افغانستان بلکہ فارس اور مصر اور عرب تک خیال دوڑاتا تھا۔اس سرے سے اس سرے تک ایک متنفس سمجھ میں نہیں آتا تھا۔جس کو میں ہندوستان کا بادشاہ بناؤں امیدواران سلطنت میں سے اور کوئی گروہ اس وقت موجود نہ تھا کہ میں اس کے استحقاق پر نظر کرتا میرا اس وقت کا فیصلہ یہ تھا کہ انگریز ہی سلطنت