تحقیقِ عارفانہ — Page 233
کی تائید کے مترادف ہو تا۔یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین تاریخی واقعات کو دانستہ ان کے پس منظر سے دور کر کے دکھانے کے عادی ہیں وہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ چلیئے مرزا صاحب تو رہے ایک طرف پنجاب کے باقی مسلمانوں کا اس وقت انگریز کے ساتھ کیا رویہ تھا۔کیا ایک بھی مسلمان سکھوں کی تائید میں تھا ؟ اگر کوئی ایسا تاریخی واقعہ ہو تو جناب برق صاحب اسے سامنے لانے کی جرات کیوں نہیں کرتے ؟ اب رہا مستقبل کا سوال کہ جب پنجاب میں امن قائم ہو گیا تو پھر حضرت بائی جماعت احمدیہ نے انگریز سے ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا ؟ انیسویں صدی کے اواخر میں ہندوؤں نے ہندوستان کو انگریز کے اقتدار سے نکالنے کے لئے جو سیاسی تحریکیں شروع کی تھیں کوئی عقلمند اور دور اندیش مسلمان ان کی تائید نہیں کر سکتا تھا۔حضرت بانی جماعت احمد یہ جانتے تھے کہ ہندو اکثریت آٹھ سو سال تک مسلمانوں کے ماتحت رہنے کے بعد اب بیدار ہو رہی ہے اور مسلمان زوال کے اس دور میں داخل ہے جس میں ہر فاتح قوم اقتدار چھن جانے پر مبتلا ہو جایا کرتی ہے۔ان حالات میں جیسا کہ بعد میں واقعات نے شہادت بھی دی ہے۔ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف ایک انتقام کی آگ سلگ رہی تھی۔اگر اس وقت انگریز ہندوستان کو آزاد کر دیتا تو اس کے یہ معنی تھے کہ ملک میں ہندوؤں کی ایک منصب حکومت قائم ہو جاتی جو مسلمانوں کو ان سے آٹھ سو سالہ دور حکومت کا بدلہ لینے کے لئے اپنے انتقام کا نشانہ بناتی۔اور وہ حکومت مسلمانوں کے لئے آج کے بھارت کی نام و نہاد سکولر حکومت سے کہیں زیادہ خطر ناک ثابت ہوتی۔آج تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بھارت کی سرحد پر ایک مضبوط اسلامی سلطنت قائم ہو چکی ہے۔اور بھارت میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں بھارت کو کچھ کچھ اس کا احساس بھی ہے کہ پاکستان میں ہندوؤں کی بھی