تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 232 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 232

۲۳۲ مسلمانوں کی جس نسل نے پنجاب کے سکھ دورِ حکومت میں آنکھ کھولی تھی۔وہ جانتی تھی کہ انگریزوں کے مظالم کی سکھوں کے ظلم و ستم سے کوئی نسبت ہی نہیں تھی۔سکھوں نے پنجاب سے مغلیہ سلطنت کو ختم کر کے مسلمانوں کو نہ صرف سیاسی غلام بنا رکھا تھا بلکہ ان کی ثقافت اور تمدن کو بھی تباہ کر دیا تھا۔اور مسلمان جو صنعت و حرفت اور تجارت پر قابض ہونے کی وجہ سے خوشحال تھے انہیں اقتصادی طور پر برباد کر دیا اور مسلمان جاگیر داروں کی جاگیریں چھین لیں۔جن میں خود حضرت مرزا صاحب کا خاندان بھی شامل تھا۔اور اس پر مزید یہ کہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی بھی چھین لی۔اس زمانہ میں کسی مسلمان کو اذان دینے کی بھی اجازت نہ تھی۔مساجد سکھوں کے اصطبلوں میں تبدیلی کر دی گئی تھیں۔اور مدر سے اوقاف ویران ہو گئے تھے۔قومی عصمت بھی سکھوں کے رحم و کرم پر تھی۔مسلمان قوم کی بیٹیوں کی زبر دستی آبروریزی کرنا سکھ معاشرے میں ایک قابل فخر کارنامہ سمجھا جاتا تھا۔آج بھی شاہی مسجد کے پہلو میں رنجیت سنگھ کی مڑھی کا اضافہ سکھوں کی ذہنیت اور بر بریت کا ایک تاریخی ثبوت ہے۔ان حالات میں جب انگریز نے ۱۸۵۳ء میں پنجاب میں سکھوں کو شکست دے دی تو انگریز نے مسلمانوں سے حکومت نہیں چھینی بلکہ مسلمانوں کی دشمن سکھ قوم سے حکومت چھینی تھی۔اور مسلمانوں کو محمڈن پرسنل لاء دے کر مذ ہبی آزادی سے نوازاہ ملک میں طوائف الملو کی اور لاقانونیت کی جگہ ایک مضبوط عادلانہ حکومت قائم کر دی۔مسلمانوں کے اوقاف اور مذہبی ادارے پھر سے زندہ ہونے لگے۔مذہبی تعلیم پر سے ناروا پابندیاں اٹھالی گئیں۔اور پنجاب کے مسلمان جو ایک عرصہ سے سکھوں کے ظلم و ستم کا تختہء مشق نے چلے آتے تھے اب انہوں نے انگریز کی سلطنت میں سکھ کا سانس لیا۔اور انگریزی حکومت کو ایک نعمت سمجھا۔ان حالات میں اگر حضرت مرزا صاحب انگریز کی مخالفت کرتے تو یہ سکھ مظالم