تحقیقِ عارفانہ — Page 227
اقدس کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ امت محمدیہ کے تمام ائمہ قریش میں سے ہونے چاہئیں۔بلکہ بموجب حديث نبوى لَوكَانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّقًا بِالتُرِيَّالَنَالَهُ رَجُلُ مِنْ هَؤُلَاءِ (صحيح فاری - جو آیت آخَرِينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوابهم ( سور و جمعہ ) کی تفسیر میں مروی ہے آپ مسیح موعود اور مہدی معہود کو ایک فارسی النسل شخص یقین کرتے ہیں۔جزو پنجم برق صاحب جزو پنجم میں سلسلۂ محمد یہ کے دو خلفاء خلیفہ اول حضرت ابو بحر" اور خلیفہ دوازدہم حضرت سید احمد بریلوی علیہ الرحمۃ کا ذکر کر کے چار سوال کرتے ہیں۔اول : وہ دونوں قریش تھے اور آپ مغل یہ کیا ؟ - دوم : وہ دونوں غیر نبی تھے اور یہ نبی یہ کیوں ؟ سوم :- وہ دونوں عمر بھر مصروف جہاد رہے۔اور آپ عمر بھر جہاد کے خلاف لکھتے رہے یہ کس لئے ؟ چهارم : وہ دونوں اسلامی سلطنت کے قیام وبقا کے لئے کوشاں رہے۔اور آپ سلطنت فرنگ کے قیام کے لئے یہ خلافت کیسی؟ (حرف محرمانه صفحه ۱۳۴) الجواب برق صاحب کے یہ تمام سوالات طفلانہ ہیں۔حدیث لا يزال الاسلام عزيزاً إلى اثنتى عشرة خليفة كلهم من قريش کے مطابق اسلام کے بارہ خلیفے قریش میں ہونے چاہئیے نہ کہ ضرور تیرہویں خلیفہ کو بھی قریش میں سے ہونا چاہیئے۔سورہ نور کی آیت استخلاف میں خلافت کے مومنوں کو دیے جانے کا وعدہ ہے نہ کہ محض قریش کو۔قریش بھی ایمان کے بعد خلافت کے مستحق ہو سکتے تھے۔