تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 173 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 173

۱۷۳ "یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسی شراب پیا کرتے تھے۔شاید کسی ہماری کی وجہ سے یا میدانی عادت کی وجہ جناب برق صاحب نے یہ عبارت ادھوری پیش کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسلمانوں کو جو یورپ کی تقلید میں شراب پیتے ہیں ہدایت فرمارہے ہیں کہ یورپ کے لوگ تو شراب پینے کے لئے اپنے زعم میں ایک یہ وجہ جواز رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح شراب پیتے تھے لیکن اسلام میں تو اس کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں۔پس تم کسی بنا پر شراب پیتے ہو۔مسیح کے زمانہ میں تو شراب حلال تھی تم اور اسلام میں حرام ہے۔جب حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں شراب حرام ہی نہ تھی بلکہ حلال تھی تو پھر ان کا شراب پینا معصیت نہ ہوا۔اس لئے اس کا ذکر قابل اعتراض کس طرح ہوا عیسائیوں میں تو عشائے ربانی کی رسم میں شراب کا استعمال ایک مذہبی رسم ہے اور وہ اس رسم کو یسوع مسیح کے ذریعہ جاری کردہ خیال کرتے ہیں۔عمل الحرب اس عمل القرب کے بارہ میں جس میں حضرت مسیح کمال رکھتے تھے اور آپ نے یہ عمل معجزانہ طور پر باؤن و حکم الی اختیار کیا تھا۔جناب برق صاحب نے اپنی عادت کے مطابق حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی ادھوری اور نا مکمل تحریر میں آگے یا پیچھے اور درمیان سے کاٹ کر پیش کرتے ہوئے ایک غلط تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔اور دل میں چور ہونے کی وجہ سے اس غلط تاثر کو مضبوط کرنے کے لئے حرف محرمانہ کے حاشیہ صفحہ ۸۶ ۷ ۸ پر یہ نوٹ دیا ہے کہ :-