تحقیقِ عارفانہ — Page 161
141 مگر چونکہ عیسائی قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ پر گندے اور ناپاک اعتراضات کر رہے تھے۔اس لئے جب وہ اعتراضات میں حد سے بڑھ گئے تو پھر آپ نے مجبور ہو کر الزامی جواب کا طریق اختیار کیا۔اور عیسائیوں کے سامنے ان کے مزعوم مسیح کی شخصیت کے متعلق از روئے انجیل بحث کی۔یہ قرآن مجید کا واقعی احسان تھا کہ وہ حضرت مسیح کو راستباز اور خدا کا بر گزیدہ نبی پیش کرتا ہے۔ورنہ اگر عیسائیوں کے معتقدات ملحوظ رکھے جائیں تو پھر واقعی ان کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی جب تک انجیل اپنی اصل روح میں نہ پڑھی جائیں۔چونکہ عیسائیوں نے اپنے زعم میں انجیل کی روسے انہیں خدا مان رکھا تھا اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ پر نا پاک حملے کر رہے تھے۔اس لئے ان پر ان کے طریق اعتراضات کی قباحت واضح کرنے کے لئے ان کے سامنے یہودیوں کے اعتراضات پیش کئے گئے تا انہیں سمجھ آسکے کہ جس طرح یہودیوں کا مسیح پر اعتراضات کرنے کا طریق ایک بلاک طریق تھا۔اسی طرح عیسائی آنحضرت ﷺ پر جو اعتراضات کر رہے ہیں ان میں انہوں نے بھی یہودیوں کی ناپاک روش اختیار کر رکھی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے یہودیوں کے اعتراضات کو عیسائیوں کے مقابل میں پیش کرنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ انہیں لینے کے دینے پڑ گئے۔اور انہیں سمجھ آگئی کہ ان کا اسلام اور بانی اسلام پر ناپاک حملے کرنے کا طریق نامناسب تھا۔اسی لئے انہیں وہ باتیں مسیح کے متعلق از روئے انجیل سنا پڑی ہیں۔جن کا جواب ان کے لئے سخت مشکل ہے۔حضرت اقدس نے ان اعتراضات میں اپنا کوئی عقیدہ بیان نہیں کیا تھا۔بلکہ عیسائیوں کو صرف یہ سمجھانا مقصود تھا کہ جس قسم کے اعتراضات وہ اسلام اور بانی اسلام پر کر رہے ہیں ان سے بڑھ کر اعتراضات خود انجیل اور عیسائیوں کے معتقدات کی رو سے یہودیوں نے یسوع مسیح کے خلاف پیش کر رکھے ہیں۔عیسائیوں کو اسلام اور بانی اسلام پر حملہ کرنے سے پہلے اپنے گھر کی خبر لینی