تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 162 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 162

چاہیے۔اس طرح التزامی جواب کا طریق اختیار کرنے سے خاطر خواہ نتیجہ نکلا۔کیونکہ عیسائیوں نے اس کے بعد اپنی روش میں تبدیلی کر لی۔حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ سے پہلے الزامی جوابات کا یہ طریق عیسائیوں کے مقابلہ میں خود مسلمان علماء بھی اختیار کرتے رہے ہیں۔بلکہ برقی صاحب نے اپنی کتاب بھائی بھائی میں شیعوں کے بالتقابل خود بھی ایسے الزامی جوابات کا طریق اختیار کیا ہے۔جو باتیں حضرت اقدس نے عیسائیوں کے یسوع کے متعلق یہودیوں کے اعتراضات عیسائیوں کے سامنے پیش کرنے کی صورت میں اسلام و آنحضرت ﷺ کی مدافعت میں لکھی ہیں ویسے ہی اعتراضات مولوی آل حسن صاحب نے اپنی کتاب استفسار میں عیسائیوں کے سامنے پیش کئے ہیں جنہیں ہم نقل کرنا نہیں چاہتے۔جو صاحب یہ اعتراضات دیکھنا چاہیں استفسار کے صفحہ ۳۹۱،۳۹۰،۳۶۹،۳۵۲،۳۵۰،۳۳۷،۱۰۷۰۷۳۔میں ملاحظہ کریں۔”مباحثہ جھانگیری“ میں جو محمد جہانگیر خاں اور مسٹر مسیح داس کے مابین ۱۸۹۳۰ء میں آگرہ میں ہوا تھا اس میں حضرت اقدس کے الفاظ سے بھی زیادہ سخت الفاظ میں اعتراضات کئے گئے ہیں۔اسی طرح مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی نے اپنی کتاب "اعجاز عیسوی" میں حضرت مسیح کے متعلق اسی قسم کے سخت اعتراضات تحریر کئے ہیں جیسے حضرت اقدس نے یہودیوں کے اعتراضات عیسائیوں کے سامنے پیش کئے ہیں تا وہ اسلام و آنحضرت ﷺ پر اپنے اعتراضات کی نا پسندیدہ اور مکروہ روش میں تبدیلی کریں۔پس اسلام کی مدافعت میں حضرت اقدس نے جو طریق مجبورا اختیار کیا ، ق صاحب اس پر مكالله معترض ہوتے ہوئے لکھتے ہیں۔اعتراض اگر عیسائیوں کے لئے یہود کے طریق ید کی پیروی نامناسب تھی تو جناب